وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گاایکسپریس نیوز کو ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کا بجٹ 10 جون کے بجائے 12 جون کو پیش کیا جائے گا جبکہ قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بدھ کو ہوگا اور اقتصادی سروے جمعرات کو پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اسکے بعد جمعہ کو وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی منظوری کے ساتھ ساتھ بجٹ مسودے کی بھی منظوری دی جائے گی جسکے بعد اسی روز بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق بجٹ بارے حکومت کا بڑی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ معاملات پر اصولی اتفاق ہوگیا ہے البتہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پچاس فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔پیپلز پارٹی کے ساتھ بجٹ معاملات پر اتفاق کے بعد توقع ہے کہ آئی ایم ایف سے بھی جلد بجٹ اہداف پر حتمی مشاورت ہو جائے گی جس کے بعد جمعہ کو بجٹ پارلیمنٹ میں پیش ہوگا اور توقع ہے کہ اسکا اعلان بھی جلد ہو جائے گا۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس دس جون کو ہوگا جس میں اگلے مالی سال کیلئے پی ایس ڈی پی اور سالانہ ترقیاتی منصوبے کی منظوری دی جائے گی جس کے بعد گیارہ جون کو اکنامک سروے جاری کیا جائے گا ۔دوسری وفاقی وزیر احسن اقبال نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں وفاقی بجٹ کے کئی امور تاحال فائنل نہ ہونے کی تصدیق کی ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کے حوالے سے ابھی چیزوں کا حتمی شکل اختیار کرنا باقی ہے اور اس حوالے سے بات چیت چل رہی ہے وقت انتہائی قلیل ہے اور محرم الحرام بھی آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دیکھتے ہیں اسی تاریخ پر چیزیں مینج کرنا کیسے ممکن ہوتا ہے، کچھ تبدیلیاں تو بجٹ پیش کرنے کے بعد بھی چلتی رہتی ہیں، ابھی تاریخوں میں ردوبدل ہوگا یا کیا ہوگا، حتمی کچھ نہیں کہہ سکتا۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ترقیاتی بجٹ پر مذاکرات مکمل ہوگئے ہیں، پی ایس ڈی پی پر حکومت اور اتحادیوں کے درمیان معاملات پر انڈر اسٹینڈنگ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاق چھوٹے صوبوں پر آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زیادہ پیسہ خرچ کرےگا، وفاق سب سے زیادہ بلوچستان، پھر سندھ اور تیسرے نمبر پر فنڈز خیبرپختونخوا کو دے گا، وفاق پنجاب کے لیے سب سے کم فنڈز دےگا۔انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کےترقیاتی منصوبوں پر265 ارب خرچ کیے جائیں گے، سندھ کے ترقیاتی منصوبوں پر 195 ارب، کے پی میں 98 ارب اور پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 72 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس کے علاوہ 150 ارب روپے آزاد کشمیر اور جی بی کےلیے مختص کیے ہیں ، احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سندھ میں سکھر حیدر آباد موٹروے منصوبہ اس سال شروع کریں گے، کے فور منصوبے کے لیے بھی وفاقی حکومت بجٹ میں فنڈز مختص کرے گی۔