پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کتنے روپے لٹر اضافہ؟

An increase of 19 rupees per liter in the prices of petroleum products?

پاکستانیوں کو رواں ماہ کے اختتام میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ایک جھٹکا لگانے کی تیاریاں کی جا رہی ہے۔کیونکہ اطلاع ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا 31 جنوری سے اگلے پندرہ روز کے لیے 5 تا 9 روپے فی لیٹر بڑھنے کا امکان ہے۔

 جس کی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور امپورٹ پریمیم کا بڑھنا ہے۔پروگرام’10تک ‘کے میزبان ریحان طارق نے کہا ہے کہ  ذرائع کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی عالمی منڈیوں میں قیمتیں گزشتہ 15 دن کے دوران بڑھی ہیں، اس کے علاوہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کو امپورٹ پریمیم کی مد میں بھی زائد ادائیگی کرنی پڑی، حالانکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ ہوا۔

جس کے بعد اب اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں 4 تا 6 روپے فی لیٹر اور پیٹرول 6.5 تا 9 روپے مہنگا ہو جائے گا، تاہم اس کا انحصار شرح تبادلہ کے حساب پر ہوگا، تاہم مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھے جانے کا امکان ہے

۔ ذرائع نے بتایا کہ پیٹرول کی قیمت 3 ڈالر بڑھ کر 83 ڈالر سے 86.5 ڈالر فی بیرل ہوگئی، اسی طرح ڈیزل 2 ڈالر مہنگا ہو کر 95.6 ڈالر سے 97.5 ڈالر فی بیرل ہوگیا، اس کے برعکس امریکی کرنسی کے مقابلے میں روپے کی قدر تقریباً ایک روپے 50 پیسے بڑھی، اور جنوری کے نصف تک 281 کے برعکس 280 روپے پر آگئی۔

 ذرائع کے مطابق پی ایس او کی جانب سے کارگو کے پریمیم میں 2 ڈالر کا اضافہ ہوا، پیٹرول کے لیے 4.2 ڈالر سے بڑھ کر 6.5 ڈالر فی بیرل اور ڈیزل کے لیے 7.5 ڈالر سے بڑھ کر 9.5 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ اگرچہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات سے کوئی سیلز ٹیکس نہیں لے رہی تاہم اس نے دونوں مصنوعات پر 60 روپے فی لیٹر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی عائد کر رکھی ہے۔

دوسری جانب عوام کے لیے ایک خوشخبری یہ ہے کہ پاک ایران کشیدگی سے مہنگی ہونے والی ایل پی جی اب دوبارہ سے سستا ہونا شروع ہو گئی ہے۔اس وقت مارکیٹ میں کم سے کم 20 روپے فی کلو قیمت کم ہو چکی ہے۔ ایل پی جی کی قیمت 300 روپے سے کم ہو کر 280 روپے فی کلو پر آگئی ہے۔

گھریلو سیلنڈر کی قیمت میں 230 اور کمرشل میں 900 کی کمی ہوگئی ہے۔اس کے علاوہ امید کی جا رہی ہے کہ کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں قیمت میں مزید کمی ہو سکتی ہے۔مزید دیکھیے اس ویڈیو میں









اشتہار

اشتہار