ڈپٹی اٹارنی جنرل کی بیگم کا خاتون پر تشدد، وزیراعظم نے افسر کو عہدے سے فارغ کردیا

Deputy Attorney General's wife assaults woman, Prime Minister dismisses officer from post
ڈپٹی اٹارنی جنرل کی اہلیہ کی جانب سے موٹرسائیکل سوار خاتون اور ان کی بیٹی پر تشدد کے واقعے پر وزیراعظم نے ایکشن لے لیا ہے۔ملتان میں ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان کی اہلیہ کی جانب سے موٹرسائیکل سوار خاتون اور ان کی بیٹی پر تشدد کا واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل سلمان خورشید کو عہدے سے ہٹا دیا۔وزیراعظم نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی عہدے سے برطرفی کی سفارش صدر مملکت کو ارسال کردی۔

 واقعہ 16 اگست کو شام 4 بجے پیش آیا جب میمونہ نامی خاتون اپنی بیٹی کے ساتھ جا رہی تھیں راستے میں شہیر سلمان، زاہدہ خورشید اور شاہدہ بی بی نے انہیں روک کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ ملزمان نے خاتون کو زمین پر گرا کر بالوں سے گھسیٹا، کپڑے پھاڑنے کی کوشش کی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا۔

پولیس کے مطابق مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 354 (خاتون کی عزت پامال کرنے کی کوشش)، 342 (غیر قانونی قید) اور 506 (دھمکیاں) کے تحت درج کیا گیا۔ملزمان کو 17 اگست کو ڈیوٹی مجسٹریٹ نمرہ سلیم کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے قرار دیا کہ دفعات قابلِ ضمانت ہیں۔ عدالت نے تینوں ملزمان کو 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا اور ہدایت دی کہ اگر ضمانتی مچلکے جمع نہ کروائے گئے تو ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے۔عدالت نے پولیس کو تفتیش مکمل کرنے اور چالان جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے مقدمے کی آئندہ سماعت 31 اگست مقرر کی ہے۔




حوالہ 

اشتہار

Follow us on Google News

Follow Us

اشتہار

Follow us on Google News

Follow Us