بالی ووڈ اداکارہ اور سابق مس انڈیا سیلینا جیٹلی نے اپنے بچوں کی تحویل سے متعلق قانونی تنازع اور شادی کی 15 ویں سالگرہ کے موقع پر طلاق کی کہانی سوشل میڈیا پر سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی جنگ کے دوران ان کے بچوں کو آہستہ آہستہ ان کے خلاف کیا جا رہا ہے۔اداکارہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک جذباتی پیغام میں بتایا کہ مختلف ممالک اور قانونی نظاموں کے درمیان بچوں سے یہ جدائی ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہو رہی ہے۔
سیلینا جیٹلی نے کہا کہ آسٹریا کی فیملی کورٹ کے مشترکہ تحویل کے حکم کے باوجود، اس وقت مجھے اپنے 3 بچوں سے کسی بھی قسم کے رابطے سے مکمل طور پر محروم رکھا گیا ہے، اور میرا دل ٹوٹ چکا ہے۔اپنے بچوں کے ساتھ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ 11 اکتوبر 2025، رات 1 بجے، میں پڑوسیوں کی مدد سے آسٹریا سے روانہ ہوئی تاکہ اس منظم جبر اور بدسلوکی سے بچ سکوں جس کا میں سامنا کر رہی تھی۔سیلینا جیٹلی کے مطابق وہ بہت کم رقم کے ساتھ بھارت واپس آئیں اور انہیں اپنے ہی گھر میں داخل ہونے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔
انہوں نے لکھا کہ بھارت میں مجھے صرف اپنے ہی گھر میں داخل ہونے اور رسائی حاصل کرنے کے لیے عدالت جانا پڑا، یہ وہ جائیداد ہے جو میں نے 2004 میں، شادی سے بہت پہلے خریدی تھی۔اداکارہ نے مزید بتایا کہ کیس لڑنے کے لیے انہیں بھاری قرض لینا پڑا۔ انہوں نے بچوں پر ذہنی پریشر اور دھمکانے کے الزامات بھی عائد کیے۔سیلینا جیٹلی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں ان کی شادی کی سالگرہ کے دن طلاق کے کاغذات دیے گئے اور باہمی رضامندی سے علیحدگی کی ان کی کوششیں مسترد کر دی گئیں۔انہوں نے لکھا کہ میری پوری دنیا ایک ہی لمحے میں مجھ سے چھین لی گئی۔اداکارہ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ وہ اپنے بچوں سے محض اس لیے دور ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے اور آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ سیلینا جیٹلی نے 2010 میں آسٹرین کاروباری شخصیت پیٹر ہاگ سے شادی کی تھی۔ ان کے تین بیٹے ہیں، جبکہ ان کا چوتھا بچہ شمشیر دل کی بیماری کے باعث پہلے ہی انتقال کر چکا ہےنومبر 2025 میں سیلینا جیٹلی نے ممبئی کی ایک عدالت میں اپنے شوہر پیٹر ہاگ کے خلاف گھریلو تشدد، ظلم اور ہیرا پھیری کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کیا تھااداکارہ نے ₹50 کروڑ اور دیگر مالی رقوم کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں شدید مالی اور ذاتی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ پیٹر ہاگ کی جانب سے تاحال ان الزامات پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔