وزیراعظم پاکستان کی وزیراعظم قطر سے ملاقاتوزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے دوحہ کے اپنے سرکاری دورے کے دوران وزیر اعظم اور قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی سے ملاقات کی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف لو چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید… pic.twitter.com/qz2YB8RShJ— PTV News (@PTVNewsOfficial) February 24, 2026
انہوں نے سیاسی مصروفیات کے مثبت انداز پر اطمینان کا اظہار کیا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔شیخ تمیم بن حمد الثانی نے اقتصادی شراکت داری کو اعلیٰ اسٹریٹجک سطح تک بڑھانے کے لئے قطر کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کی علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔دونوں رہنماؤں نے مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کثیر الجہتی فورمز کے اندر قریبی تعاون کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور اہم علاقائی مسائل پر قریبی روابط برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔اعلامیہ یہ دورہ پاکستان اور قطر کے اپنی مضبوط شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے اور ان کے مضبوط سیاسی تعلقات کو ٹھوس اقتصادی نتائج میں تبدیل کرنے کے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امیر قطر کو پاکستان کے دورے کی دعوت کا اعادہ کیا جسے امیر قطر نے بخوشی قبول کر لیا، یہ دورہ اسی سال ہو گا۔دوحہ میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی پیش رفت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔رہنماؤں نے پاکستان اور قطر کے مضبوط برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، افرادی قوت اور ثقافتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔دونوں فریقوں نے مشترکہ ٹاسک فورس کے کردار کو کلیدی قرار دیتے ہوئے حالیہ اعلیٰ سطحی فیصلوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔غزہ کی صورتحال اور خلیج کی سلامتی سمیت علاقائی امور بھی زیر بحث آئے، جبکہ وزیراعظم نے خطے میں کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے قطر کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
وزیراعظم نے قطر کے وزیر مملکت برائے بیرونی تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید سے بھی ملاقات کی، جو پاکستان- قطر جوائنٹ بزنس ٹاسک فورس کے چیئرمین ہیں۔گفتگو میں دوطرفہ تجارتی حجم بڑھانے، پاکستانی برآمدات خصوصاً زرعی و ویلیو ایڈڈ مصنوعات کو متنوع بنانے اور مشترکہ وزارتی کمیشن کے فیصلوں پر عمل درآمد پر زور دیا گیا۔وزیراعظم نے سرمایہ کاری دوست اصلاحات اور Special Investment Facilitation Council (SIFC) کے ون ونڈو پلیٹ فارم کے کردار کو اجاگر کیا۔دونوں ممالک نے رمضان المبارک کے دوران ٹاسک فورس اجلاس بلانے پر اتفاق کیا، جس میں پاکستان میں قطری سرمایہ کاری کے لیے ٹھوس تجاویز زیر غور آئیں گی۔قطر بزنس مین ایسوسی ایشن کے وفد، جس کی قیادت شیخ فیصل بن قاسم الثانی نے کی۔
وزیراعظم نے قطری سرمایہ کاروں کو انفراسٹرکچر، لاجسٹکس، توانائی، زراعت، ٹیکنالوجی اور برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ میں مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔وفد نے بزنس ٹو بزنس تعاون بڑھانے اور پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ دفاعی امور پر اعلیٰ سطحی مشاورت کی گئی۔وزیراعظم نے قطر کے نائب وزیراعظم و وزیر مملکت دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن بن علی الثانی سے بھی ملاقات کی۔فریقین نے دفاع اور سیکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینے، مسلح افواج کے درمیان جاری روابط پر اطمینان اور علاقائی صورتحال خصوصاً ایران اور افغانستان کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے قطر ہم منصب اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی سے ملاقات کی۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی اور علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلۂ خیال، پاکستان اور قطر کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا اور سیاسی، اقتصادی اور ادارہ جاتی روابط میں بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔رہنماؤں نے تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، افرادی قوت و لیبر اور ثقافتی شعبے میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی اور ان تمام شعبوں میں تعاون کو تیز کرنے کے لیے دونوں ممالک کی مشترکہ ٹاسک فورس کو لازمی قرار دیا گیا۔
دونوں فریقوں نے مشترکہ وزارتی کمیشن اور دو طرفہ سیاسی مشاورت سمیت حالیہ اعلیٰ سطحی مصروفیات اور ادارہ جاتی میکانزم کے دوران کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔اعلامیے کے مطابق ملاقات میں علاقائی مسائل بشمول غزہ میں پیشرفت اور خلیج کی سلامتی کے وسیع تر امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے خطے میں مذاکرات کے فروغ اور کشیدگی میں کمی کے لیے قطر کی تعمیری سفارتی کوششوں کو سراہا جبکہ دونوں رہنماؤں نے تنازعات کے پرامن حل اور اقوام متحدہ کے چارٹر سمیت بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا۔