63سالہ حافظ مولانا رزین اشرف ندوی (پونے) نے 45سال تک تراویح پڑھائی۔ حفظ کرنے کے بعد 1980ءمیں پہلی تراویح اپنے گاؤں مادھوپور سلطان پور (سیتامڑھی، بہار) میں پڑھائی تھی۔ اس کے بعد راجستھان میں فتح پور شیخاوٹی کی مسجد شیش گراں میں، یہ مسجد شیشے کی خوبصورت نقاشی سے انوکھے انداز میں سجائی گئی تھی، اس کے بعد بنگلور کے مختلف علاقوں کی مساجد میں، اس کے بعد دو سال مچھلی پٹنم کے گاؤں میں اور 2سال مسقط میں فوج کی مسجد میں پڑھائی۔
مسقط میں ان کے بڑے بھائی مولانا امین اشرف قاسمی فوج میں مذہبیات کے استاد تھےانہوں نے حافظ رزین اشرف اور چھوٹے بھائی ڈاکٹر یمین اشرف کو بلوایا اور دونوں نے مل کر قرآن سنایا۔ اس کے بعد سے وہاں تراویح کا اہتمام ہونے لگا۔فوج کی اس مسجد میںتراویح کے اہتمام میںمولانا کے بڑے بھائی کی کوششوں کا خاص دخل تھا۔ندوۃ العلماء سے فارغ ہونے کے بعدپھر گاؤں کی مسجد میں1991ء سے 1994ء تک پڑھائی اس کے بعد پونے آئے اور2004ء سے 2024ءتک پونے کی مختلف مساجد میں پڑھائی۔
2025ءمیں 4th رمضان المبارک کو عارضہ قلب پیش آگیا اس کے بعد سے تراویح پڑھانے کا سلسلہ رک گیامگر سماعت اور حفاظ کی تربیت کا اہتمام جاری ہے۔اسی اثناء میں مولانارزین اشرف نے کوثر باغ کی ایشا لوریل سوسائٹی کے بیسمنٹ کی کشادہ جگہ میں تراویح کی ایک بڑی جماعت کا اہتمام کرایا۔ تراویح کی اس جماعت کی انفرادیت یہ ہےکہ یہاں 500 سے زائد خواتین بھی تراویح میں شریک ہوتی ہیں، ان کے لئے پرد ے کا معقول نظم کیا گیا ہے۔یہ سلسلہ 2019ء سے جاری ہے۔
حافظ مولانا رزین اشرف نے تراویح پڑھانے کے دوران اس کا بھی اہتما م رکھا کہ پڑھے جانے والے پاروں کی تلخیص مصلیان کے سامنے آجائے۔ چنانچہ انہوں نے محض تلخیص بیان ہی نہیںکی بلکہ دو جلدوں میں اسے شائع بھی کیا۔’’مستفاداتِ قرآن‘‘ کےنام سے اس کی تیسری جلد پر کام جاری ہے۔ اس میں ہر سورہ کی مخصوص آیات کی تفسیر کی گئی ہے جبکہ مجموعی 114 سورتوں کو اس طرح پیش نظررکھاگیا ہے کہ پہلی جلد میں30 سورتوں کے مضامین کی مناسبت سے 30 تقاریر ہیں، دوسرے میں بھی یہی ترتیب ہے، تیسری میں بھی تیس سورتیں ہوں گی اور آخری جلد میں 24سورتوں کی تفسیر آئے گی۔
حافظ رزین اشرف نے حفظ ہتھورا (باندہ) میں حافظ مولوی پیر علی صاحب کے پاس شروع کیا، اس کے بعد رڑکی مدرسہ رحمانیہ میں حفظ مکمل کیا اور وہاں دستار بندی قاری محمد طیبؒ کے ہاتھوں ہوئی۔ دَور مدرسہ بحرالعلوم میرٹھ میں کیا، یہاں مولانا کے بڑے بھائی صدر مدرس تھے۔ عالمیت 1990ء میں ندوہ سے کیا۔حافظ مولانارزین اشرف نے پونے میں جامعہ نظامیہ صوفیہ میں26 سال تک تدریسی خدمات انجام دیں اور 19سال تک یہاں شیخ الحدیث رہے۔نئے حفاظ کے تعلق سےمولانا کا کہنا ہےکہ ان میں پرانے حفاظ جیسی استقامت، محنت اور یکسوئی کم نظر آرہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جن مساجد میں حفاظ بھیجے جاتے ہیں ان میں سے کئی مساجد کے ٹرسٹیان شاکی نظر آتے ہیں۔ اس لئے حفظ باقی رہے،اس پرتوجہ دینا زیادہ ضروری ہے۔مولانا علمی اور روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد حاجی محمد ابراہیم نقشبندیؒ مولانا احمد حسینؒ منوروا کے خلیفہ ومجاز تھےاور مولانا احمد حسین منوروا معروف بزرگ مولانا بشارت کریم ؒکے خلیفہ تھے۔مولانا رزین اشرف کے 8 بھائی ہیں، ان میں سے 3 قاسمی اور 4 ندوی ہیں۔ کئی بھتیجے بھی عالم،حافظ اور انجینئر ہیں۔