
خانہ کعبہ میں نصب دروازہ بیت اللہ کی نسبت سے پہلے ہی مقدس ومحترم ہے کچھ خاص باتیں آپ کو بتائیں گے۔مسجد الحرام میں خانہ کعبہ میں نصب بلند دروازہ بیت اللہ کی نسبت سے پہلے ہی محترم ہے، اس کے ساتھ وہ فن تعمیر کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ تاہم اس دروازے کی ایسی خصوصیات جن سے شاید عام افراد واقف نہ ہوں، ہم آپ کو بتائیں گے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کعبہ مقدس کا دروازہ مشرقی سمت پر مطاف کے فرش سے 2.25 میٹر بلند ہے۔ دروازے کا اتنی بلندی اور اونچے مقام پر رکھا جانا ماضی میں مکہ میں آنے والے سیلابوں کے پیش نظر ہے۔دروازہ 3.1 میٹر اونچا اور 1.9 میٹر چوڑا ہے۔ اس دروازے کو 24 قیراط کے خالص سونے سے بنایا گیا ہے، جس کا وزن تقریباً 280 کلوگرام ہے۔ اس طرح یہ دنیا کا واحد ایسا دروازہ ہے جس کی قدر و قیمت اتنی زیادہ ہے۔
سنہ 1979 میں مرحوم شاہ خالد بن عبدالعزیز آل سعود کے دور میں کعبے کے دروازے کی ازسرِ نو تزئین و آرائش کی گئی اور اسں میں کچھ تبدیلیاں لائی گئیں۔دروازے کے سامنے کے حصے پر باریک بینی سے اسلامی کندہ کاری اور سجاوٹ کی گئی ہے جس کا محور قرآنِ پاک کی آیات اور دینی تحریریں ہیں۔ جنہیں انتہائی نفیس عربی خطاطی سے وجود میں لایا گیا ہے۔ یہ اسلامی سجاوٹ کے فن اور دھاتوں سے کام کرنے والے فنکاروں اور ماہر خطاطوں کے کام کے اعلٰی ترین معیار کا ایک خوبصورت اظہار بھی ہے۔
دروازے پر دو بڑے رِنگ ہیں جن سے دروازے کو کھول کر دھات کی سیڑھی سے کعبہ شریف کے اندر جاتے ہیں۔ تاہم یہ اُسی صورت ہوتا ہے جب درروازہ کھولنے کی خصوصی اجازت دی جائے۔خصوصی مواقع پر بیت اللہ کے دروازے کو کھولا جاتا ہے، بالخصوص جب اس کا غسل کیا جانا ہو۔ غسل کعبہ کے لیے آبِ زمزم کو استعمال کیا جاتا ہے جس میں عرقِ گلاب کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی ممالک کے کئی حکمرانوں کی آمد پر بھی بیت اللہ کے دروازے کھولے گئے ہیں۔
اس سے قبل اسلامی تاریخی میں بیت اللہ میں ایک کے بعد ایک کئی دروازے نصب کیے گئے ہیں۔ تاریخی ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جب کعبۃ اللہ کی تعمیرِ نو کی تو پہلا دروازہ خود نصب کیا تھا۔ اس وقت یہ سادہ سا دروازہ تھا جو زمین کے اوپر تھا۔قبیلہ قریش کے دور میں جب ابھی پیغمبرِ اسلام کے مشن کا آغاز نہیں ہوا تھا، اس وقت بھی کعبہ مقدس کو دوبارہ تعمیر کیا گیا اور دروازے کو سطح زمین سے کچھ بلند کر کے نصب کیا گیا۔
مختلف اسلامی ادوار، خصوصاً بنو امیہ اور بنو عباس اور پھر عثمانیوں کے زمانے میں بھی کعبے کے دروازے کی دیکھ بھال اور اس میں تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ ان ادوار میں خلفیہ وقت یا سلطانِ زمانہ، اللہ کے مقدس گھر کے دروازے کی بحالی اور شایانِ شان طریقے سے اس کی نگہداشت کو یقینی بناتے تھے۔بیت اللہ کی چابی الشیبہ خاندان کے سپُرد ہے جسے یہ بارِ امانت، چابی کی حفاظت اور دروازہ کھولنے کی خدمت، پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور سے آج تک منتقل ہوتی آئی ہے۔