اس حوالے سے نورا فتحی نے ایک ویڈیو بیان میں وضاحت دی کہ انہوں نے یہ گانا 3 سال قبل کناڈا زبان میں ریکارڈ کروایا تھا اور اس وقت انہیں اس میں کوئی نامناسب بات محسوس نہیں ہوئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ سیٹ پر ہدایتکار نے انہیں گانے کا مفہوم سمجھایا تھا، مگر بعد میں بننے والے ہندی ورژن کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں تھا۔نورا کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجھ سے کوئی اجازت نہیں لی، گانے کے پوسٹر کے لیے ان اور سنجے دت کی اے آئی امیج بھی بنائی گئی۔
نورا فتحی کے مطابق جب انہوں نے لانچ کے موقع پر ہندی ورژن دیکھا تو ہدایتکار کو خبردار کیا کہ اس پر تنقید ہوگی، مگر ان کی بات کو نظر انداز کر دیا گیا، اسی وجہ سے انہوں نے اس پراجیکٹ سے خود کو الگ کر لیا اور اس کی تشہیر نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا ’میں ہرگز نہیں چاہتی کہ کوئی یہ سمجھے کہ میں اس گانے کی حمایت کرتی ہوں، میں مداحوں کی شکر گزار ہوں کہ ان کے ردعمل کی وجہ سے فلم سازوں کو یہ ویڈیو ہٹانی پڑی‘۔ نورا نے واضح کیا کہ وہ اس متنازع گانے کی حمایت نہیں کرتیں اور مداحوں سے اپیل کی کہ وہ اس کلپ کو مزید شیئر نہ کریں تاکہ اسے غیر ضروری توجہ نہ ملے۔