ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے قتل میں‌ کس نے مدد کی؟ نیویارک ٹائمز کی تہلکہ خیز رپورٹ

Who helped assassinate Iranian Supreme Leader Khamenei? New York Times' shocking report
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو کیسے قتل کیا گیا امریکی اخبار نے تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کر دیا۔امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی حکومتی حکام کی شہادت ہو چکی ہے جس کی تصدیق ایران کے سرکاری میڈیا کی جانب سے بھی کر دی گئی ہے۔تاہم ایران کی سب سے بڑی شخصیت کو قتل کرنا اسرائیل کے لیے کیسے ممکن ہوا، اس کا انکشاف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے اس آپریشن سے واقف لوگوں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کا قتل امریکا اور اسرائیل کے درمیان قریبی انٹیلیجنس شیئرنگ کے بعد ہوا۔رپورٹ کے مطابق سی آئی اے نے سپریم لیڈر سمیت ایرانی قیادت کے اجتماع کی نشاندی کرنے میں مدد کی۔ایران پر حملے سے کچھ دیر قبل امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ممکنہ طور پر سب سے اہم ہدف آیت اللہ علی خامنہ ای کی درست نشاندہی کر لی تھی۔

سی آئی اے جو کئی ماہ سے سپریم لیڈر کی نقل وحرکت پر نظر رکھی ہوئی تھی۔ اس کو معلوم ہوا کہ ہفتے کی صبح تہران کے قلب میں واقع ایک لیڈر شپ کمپاؤنڈ میں ہوگی ابتدائی منصوبے کے مطابق رات کی تاریکی میں حملہ کرنا تھا، لیکن تہران میں حکومتی کمپاؤنڈ میں ہونے والے اجلاس کی اطلاع ملنے کے بعد ہفتے کی صبح حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس اطلاع کے بعد امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے خامنہ ای کے کمپلیکس پر 30 بم گرائے، جس سے وہ مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گیا۔اس حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، ان کے خاندان کے افراد، آرمی چیف، پاسداران انقلاب کے چیف اور سپریم لیڈر کے مشیر شہید ہوئے۔




اشتہار

Follow us on Google News

Follow Us

اشتہار

Follow us on Google News

Follow Us