امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران تیل کی ترسیل کے نئے انتظامات پر کام کر رہا ہے۔ایران کا آبنائے ہرمز کے راستے سے تیل کی ترسیل پر شرط رکھنے پر غور جاری ہے جس کے نتیجے میں ایران کچھ آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ایک سینئر امریکی عہدے دار نے سی این این کو بتایا کہ ایران اس بات پر غور کر رہا ہے کہ محدود تعداد میں تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جائے، بشرطے کہ تیل کی تجارت چینی کرنسی یوآن میں کی جائے۔
عالمی منڈی میں تیل کی تجارت تقریباً مکمل طور پر امریکی ڈالر میں ہوتی ہے، تاہم پابندیوں کے شکار روسی تیل کی تجارت روبل یا یوآن میں بھی کی جاتی ہے۔ دنیا کی توانائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جانے والی اس آبنائے کے بارے میں منڈیوں کی تشویش کے باعث تیل کی قیمتیں جولائی 2022 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جو روس کے یوکرین پر حملے کے بعد کا موسمِ گرما تھا۔جمعے کے روز اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ اس آبنائے سے جہازوں کی آمد و رفت پر پابندیاں انسانی امدادی سرگرمیوں پر بہت بڑا اثر ڈالیں گی۔ یو این انسانی امور کے انڈر سیکریٹری جنرل ٹام فلیچر نے کہا ’’جب جہاز اس آبنائے سے گزرنا بند کر دیتے ہیں تو اس کے اثرات بہت تیزی سے سامنے آتے ہیں۔
خوراک، ادویات، کھاد اور دیگر سامان کی ترسیل زیادہ مشکل اور مہنگی ہو جاتی ہے۔ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری تنازع نے اس اہم بحری راستے سے گزرنے والی آمد و رفت کو مؤثر طور پر روک دیا ہے۔ جنگ سے پہلے عالمی سطح پر تیل کی تقریباً 20 فی صد بحری ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔ اس وقت سینکڑوں جہاز اس تنگ گزرگاہ کے دونوں اطراف انتظار میں کھڑے ہیں۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر تہران جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روکتا رہا تو امریکا ایران کے جزیرہ خارگ پر واقع تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا نے اس جزیرے پر موجود ہر فوجی ہدف کو ’’مکمل طور پر تباہ‘‘ کر دیا ہے۔ یہ جزیرہ ایران کی تقریباً 90 فی صد خام تیل کی برآمدات سنبھالتا ہے۔