‘کھانا جرم نہیں’، برکس اجلاس میں بھارتی اعلیٰ افسران کی ڈرائی فروٹ اڑاتے ویڈیوز وائرل

‘Eating is not a crime’, videos of Indian top officials throwing dry fruits at BRICS summit go viral

بھارت میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے دوران بھارت کے اعلیٰ افسران سوشل میڈیا پر اپنے ملک کی جگ ہنسائی کا باعث بن گئے۔ اجلاس کے دوران بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کی ویڈیوز وائرل ہو گئیں جن میں وہ ندیدوں کی طرح اپنے آس پاس سے بے نیاز خشک میوہ جات سفارتی میز پر بیٹھے خشک میوہ جات اور دیگر اسنیکس پر ہاتھ صاف کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔

زیادہ توجہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے کھانے کے انداز نے کھینچی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان تقریر کر رہے جبکہ ان کے پیچھے تیسری قطار میں بیٹھے جیسوال ڈرائی فروٹ کا پیکٹ خالی کرنے میں جٹے ہیں۔

 جیسوال تیزی سے کھائے جا رہے تھے جیسے کئی دنوں سے کھانے کو کچھ نہ ملا ہو۔ اسی دوران ویڈیو میں ایک ہاتھ نظر آتا ہے جو ان کے آگے سے پیکٹ اٹھا لیتا ہے جبکہ اپنے سامنے موجود ڈرائی فروٹس کا خاتمہ کرنے کے بعد جیسول مزے سے اپنی انگلیاں بھی چاٹتے دیکھے جا سکتے ہیں۔واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اسے ’اسنیک ڈپلومیسی‘ اور ’برکس بوفے‘ جیسے دلچسپ نام دیے، جبکہ بعض صارفین نے اجلاس میں پیش کیے جانے والے کھانوں پر مزاحیہ تبصرے بھی کیے۔

صارفین کی اکثریت نے اعلیٰ سطح کے سفارتی اجلاس کے دوران اس طرح کھانے کے انداز کو سفارتی آداب کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بنایا۔تاہم بھارتی صحافی رویش کمار سمیت بعض افراد نے اس عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ طویل اجلاسوں کے دوران کھانے کا وقت نہ ملنے کی صورت میں بھوک لگنا ایک فطری انسانی ضرورت ہے اور ایسے مواقع پر انسانی تقاضوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے افسران کا بھرپور دفاع کیا اور ان کا مذاق اڑانے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوتے کہا کہ اسے مواقع پر کھانے پینے کی چیزیں کھانے پینے کے لیے ہی رکھی جاتی ہیں۔ “یہ شرمناک حرکت ہے، دوسروں کے وقار کا خیال رکھا جانا چاہیے۔”یہ دلچسپ واقعہ نئی دہلی میں 12 اور 13 ستمبر کو ہونے والے 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے دوران پیش آیا، جس میں عالمی رہنماؤں نے شرکت کی۔اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت مختلف ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ اجلاس کے اختتام پر نئی دہلی اعلامیہ جاری کیا گیا۔برکس اجلاس میں عالمی تعاون، معاشی معاملات، علاقائی سلامتی، عالمی تجارت اور دیگر اہم جغرافیائی سیاسی امور پر توجہ مرکوز کی گئی۔

 



حوالہ

اشتہار

Follow us on Google News

Follow Us

اشتہار

Follow us on Google News

Follow Us