دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ لاشیں اگلنے لگی

Mount Everest, the world's highest peak, began to pour out dead bodies
دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ بھی لاشیں اگلنے لگی۔  ماؤنٹ ایورسٹ بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی زد میں ہے،جس کے نتیجے میں ماؤنٹ ایورسٹ پر برف کی تہہ کم ہوگئی ہے، مائنٹ ایورسٹ پر برف کی تہہ کم ہونے سے پہاڑ پر دبی کوہ پیماؤں کی لاشیں نظر آنے لگی ہیں، روا سال کوہ پیماؤں کا عزم ماؤنٹ ایورسٹ کی صفائی اور اس میں دبی لاشوں کو واپس لانا تھا،نیپال کی فوج کے میجر ادیتیا کرکی ماؤنٹ ایورسٹ صفائی مہم کی قیادت کر رہے ہیں ان کی ٹیم میں 12 فوجی اہلکاروں کے علاوہ 18 کوہ پیما بھی شامل ہیں۔

ماونٹ ایورسٹ کے ساتھ جڑی ہمالیہ کے لوتسے اور نوپٹسے پہاڑ بھی نیپالی ٹیم کے مشن کا حصہ ہیں، یہ مشن اب تک 5 کوہ پیماؤں کی لاشیں نکالنے میں کامیاب ہو چکا ہے جو یقیناً ایک مشکل اور خطرناک کام ہے،چوٹی پر برف میں دبی ہوئی لاشوں کو نکالنے کے لیے ٹیم کو برف ہٹانے میں کئی کئی گھنٹے لگ گئےجبکہ برف کو پگھلانے کے لیے گرم پانی کا بھی استعمال کرنا پڑا،برف میں دبی ہوئی ایک لاش کو نکالنے کے لیے کوہ پیماؤں کو 11 گھنٹے لگ گئے۔ 

میجر ادیتیا نے کہا کے زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے ماؤنٹ ایورسٹ پر برف کی تہہ کم ہوئی ہے اور کئی سال سے برف میں دبی لاشیں اور کوڑا کرکٹ اب دکھائی دینا شروع ہو گیا ہے،کوہ پیماؤں کی لاشیں نکالنے کی اس مہم میں شیرنگ نے کہا کہ یہ ایک انتہائی مشکل مشن ہے،لاشوں کو نکالنا ایک علیحدہ چیلنج ہے اور ان کو نیچے اتارنا اور مشکل مرحلہ ہے،انہوں نے بتایا کے کچھ لاشیں اب بھی تقریباً ایسی ہی دکھائی دیں جیسے موت کے وقت تھیں یعنی لاشیں پورے لباس میں ملبوس اور تمام آلات ان کے ساتھ تھے۔
اتنی بلندی سے لاشوں کو واپس لانا مشکل ہی نہیں بلکہ مہنگا مشن بھی ہے ،جس میں ہزاروں ڈالر استعمال ہوتے ہیں اور ایک لاش کو نیچے لانے کے لیے 8 اہلکاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔یاد رہے کہ 1920 سے ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی مہم کے آغاز کے بعد سے 300 افراد نے اس پہاڑ کی چوٹی تک پہچنے کی کوشش میں جان کی بازی ہاری،تاہم دنیا کے اس بلند ترین پہاڑ پر بہت سی لاشیں ابھی بھی دبی ہوئی ہیں۔




اشتہار

اشتہار