کروڑوں روپے ہتھیانے کا الزام، ایک اور تنازع کے بعد ایس پی شہربانو نے خاموشی توڑ دی

SP Shahr Bano breaks silence after another controversy, accused of embezzling crores of rupees
گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں کہ لاہور کے ایک معروف آئی سپیشلسٹ ڈاکٹر علی زین العابدین نے پولیس افسر ایس پی شہربانو نقوی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ڈاکٹر کے مطابق، اپریل 2025 میں ان کے کلینک میں ایک خاتون مریضہ کا لیزر آئی سرجری کا علاج کیا گیا، جو ان کے بقول طبی طور پر کامیاب تھا۔ڈاکٹر علی زین کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں مریضہ نے علاج پر اعتراض کیا اور انہیں پولیس سٹیشن طلب کیا گیا، جہاں مبینہ طور پر ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ مریضہ کو رقم واپس کریں تاکہ وہ کہیں اور علاج کرا سکیں۔
 
ڈاکٹر کے مطابق مریضہ پہلے ہی کلینک سے چار لاکھ روپے لے چکی تھیں، حالانکہ سرجری کی فیس ڈیڑھ لاکھ روپے تھی۔ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ پولیس دباؤ کے نتیجے میں انہوں نے مریضہ کو ایک کروڑ روپے مالیت کے تین چیکس دیے، جن میں سے ایک کیش ہو چکا ہے، جبکہ باقی دو کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اب تک ان سے مجموعی طور پر 75 لاکھ روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ڈاکٹر علی زین کا یہ بھی مؤقف ہے کہ کسی طبی عمل کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ صرف ایک مستند میڈیکل بورڈ کر سکتا ہے نہ کہ پولیس، اور اس پورے معاملے میں قانونی طریقہ کار کو نظرانداز کیا گیا۔

کروڑوں روپے ہتھیانے کا الزام، ایک اور تنازع کے بعد ایس پی شہربانو نے خاموشی توڑ دی
دوسری جانب، ایس پی شہربانو نقوی نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے نہ تو کسی قسم کا دباؤ ڈالا، نہ رقم کی وصولی میں کوئی کردار ادا کیا اور نہ ہی کسی غیرقانونی عمل میں ملوث رہیں۔معاملہ منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑی، جس کے بعد ایس پی شہربانو نقوی نے اپنی وضاحت انسٹاگرام سٹوریز کے ذریعے دی۔ایس پی شہربانو کا کہنا تھا ’کافی غور و فکر کے بعد، جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی، تاکہ عقل و شعور غالب رہے، اور اس امید پر کہ لوگ حقائق اور تنازع میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔میں نے اس تمام معاملے کو وقت دیا جو گزشتہ ایک ہفتے سے زیرِ گردش تھا۔ لیکن چونکہ ہم سب انسان ہیں اور فطری طور پر تجسس رکھتے ہیں، لوگوں نے میری خاموشی کو جرم میں شمولیت سمجھ لیا۔‘

کروڑوں روپے ہتھیانے کا الزام، ایک اور تنازع کے بعد ایس پی شہربانو نے خاموشی توڑ دی
انہوں نے لکھا ’مجھے مختلف القابات دیے گئے، کبھی پولیس کی سابقہ نمائشی شخصیت کہا گیا، اور ہر وہ شخص جو کوئی تھا یا بننا چاہتا تھا اس نے میرے کردار، ساکھ، پیشہ ورانہ صلاحیت اور اخلاقیات پر حملہ کیا۔کیا کسی نے کبھی کہانی کا دوسرا رخ دیکھنے کی زحمت کی؟ یا یہ سوال کیا کہ کہیں میرا نام صرف خبر کو اہم بنانے کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟ُایس پی شہربانو نقوی کے مطابق مبینہ اعترافِ جرم اور چیکس پولیس کے پاس کیس آنے سے پہلے دیے جا چکے تھے۔انہوں نے کہا کہ ’میری دونوں فریقین سے ملاقات میرے دفتر میں صرف ایک بار ہوئی  وہ بھی 9 مئی 2025 کو۔ اس ملاقات کے بعد، خبر سامنے آنے اور میرے خلاف بدنامی کی مہم شروع ہونے تک، میرا کسی سے کوئی رابطہ نہیں رہا۔‘

کروڑوں روپے ہتھیانے کا الزام، ایک اور تنازع کے بعد ایس پی شہربانو نے خاموشی توڑ دی
اعترافِ جرم اور چیکس بغیر کسی پولیس مداخلت کے یکم مئی 2025 کو دیے گئے۔  معذرت نامہ کلینک کے لیٹر ہیڈ پر پولیس کے پاس کیس آنے سے پہلے اور بغیر کسی پولیس کردار کےتحریر کیا گیا۔ کسی بھی قسم کا مالی لین دین  بعد میں ہوا جب میں اپنے نئے عہدے کے لیے دفتر چھوڑ چکی تھی۔انہوں نے مزید کہا ’میں کسی بھی مالی لین دین میں کبھی شامل نہیں رہی اور شکایت صرف ایک بار سنے جانے کے بعد درج کی گئی، جس میں دونوں فریقین نے اپنے ذاتی معاہدے کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔’مجھے اکتوبر یا نومبر 2024 کے پہلے ہفتے میں ایس پی ماڈل ٹاؤن تعینات کیا جا چکا تھا اور اس کے بعد میرا اے ایس پی ڈیفنس کے دفتر سے کوئی تعلق نہیں رہا۔’اگر کوئی خود کو متعلقہ، مشہور یا کامیاب بنانا چاہتا ہے تو براہِ کرم میرے نام کی قیمت پر ایسا نہ کرے۔

 میں نے اپنے والدین اور اس ادارے کی محبت کے لیے دن رات محنت کی ہے۔‘اپنے بیان کے آخر میں ایس پی شہربانو نے کہا ’دعا کریں، محبت کریں، اور امید پھیلائیں جھوٹ نہیں۔  اور ان تمام سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور پیجز کے لیے جو لوگوں کو کلک بیٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو یہ احساس دلائے کہ غلط معلومات پھیلانا گناہ ہے۔  اور شکر کریں کہ میں آپ سب کے خلاف عدالت نہیں جا رہی۔‘واضح رہے ایس پی شہربانو حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک تنازع کا شکار ہوئی تھیں جب وہ ایک پوڈکاسٹ میں شریک تھیں اور ایس ایچ او کی کال آنے پر انٹرویو چھوڑ کر چلی گئیں۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آئیں اور ایک کیس کا ذکر کیا جسے پولیس نے حل کیا تھا۔ اس سارے واقعے کو سوشل میڈیا صارفین نے ایکٹنگ اور سٹنٹ قرار دیا تھا۔




اشتہار

Follow us on Google News

Follow Us

اشتہار

Follow us on Google News

Follow Us