اسلام آباد میں ایم ٹیگ کے حصول کے عمل کو انتہائی آسان بنا دیا گیاہے، تاکہ مقررہ ڈیڈ لائن سے قبل مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ڈیڈ لائن میں توسیع کے بعد اب 15 دن سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے، جس کے پیشِ نظر وفاقی دارالحکومت کے موٹر سواروں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ فوری طور پر ایم ٹیگ رجسٹریشن مکمل کروائیں اور ٹول پلازوں پر آخری وقت کی بدنظمی سے بچیں۔حکام کے مطابق ایم ٹیگ رجسٹریشن کے لیے صرف دو بنیادی دستاویزات درکار ہیں۔ ان میں گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ یا بک اور گاڑی کے مالک کا قومی شناختی کارڈ (CNIC) شامل ہے۔ اس کے علاوہ کسی اضافی فارم، فائل، یا فوٹو کاپیوں کی ضرورت نہیں ہے۔
متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ اگر دونوں دستاویزات درست اور دستیاب ہوں تو ایم ٹیگ موقع پر ہی جاری کر دیا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق حکام بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ جو شہری مکمل دستاویزات کے ساتھ رجسٹریشن سینٹرز پر پہنچتے ہیں، ان کا عمل چند ہی منٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے، جبکہ کسی ایک دستاویز کی کمی کی صورت میں شہریوں کو واپس جانا پڑتا ہےایم ٹیگ کی رجسٹریشن کو مزید سہل بنانے کے لیے ون نیٹ ورک کی جانب سےاسلام آباد میں 15 ایم ٹیگ رجسٹریشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، تاکہ شہریوں کو اپنے رہائشی علاقوں یا سفر کے راستوں کے قریب سہولت میسر آ سکے۔
حکام کے مطابق ان مراکز کا مقصد زیادہ سے زیادہ گاڑی مالکان کو بروقت ایم ٹیگ کی سہولت فراہم کرنا ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایم ٹیگ نہ ہونے کی صورت میں ڈیڈ لائن کے بعد موٹر ویز اور ٹول سڑکوں پر سفر کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے شہریوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ آخری دنوں کا انتظار کرنے کے بجائے فوری رجسٹریشن کروائیں۔ایم ٹیگ سے متعلق اوقاتِ کار، سینٹرز کے مقامات یا دیگر معلومات کے لیے شہری 1313 ہیلپ لائن پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ بروقت رجسٹریشن سے نہ صرف ٹریفک نظام بہتر ہو گا بلکہ ٹول پلازوں پر رش اور تاخیر سے بھی بچا جا سکے گا۔