دلہن کے لباس میں ملنے والی لاشوں کے پیچھے کون تھا؟؟

Who was behind the bodies found in bridal dresses?
بھارت کا بدنام زمانہ سیریل کلر ’سائنائیڈ موہن‘ جس کا اصل نام موہن کمار تھا، اس بے رحم قاتل نے 2003سے 2009 کے دوران بھارتی ریاست کرناٹک میں خوف و ہراس پھیلا رکھا۔اپنے جرائم سے پہلے وہ ایک اسکول ٹیچر کے طور پر ملازمت کرتا تھا اور بظاہر ایک تعلیم یافتہ اور مہذب شخص سمجھا جاتا تھا مگر یہی شخصیت بعد میں اس کی خطرناک اور دہری زندگی کا نقاب بن گئی۔موہن کی شناخت اس کے منفرد طریقہ واردات سے ہوئی وہ اپنے شکار کو سائنائیڈ نامی زہر کے ذریعے قتل کرتا تھا۔ سادہ لوح نوجوان خواتین کو شادی کے جھانسہ دینا اور پھر زہر دے کر ان کا قتل کرنا اس کا معمول تھا۔ 

اسی سفاک طریقے کی وجہ سے وہ ’’سائنائیڈ موہن‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔اس کے جرائم کا انکشاف اس وقت ہوا جب کرناٹک کے مختلف علاقوں میں متعدد نوجوان خواتین تقریباً ایک جیسے پراسرار حالات میں مردہ پائی گئیں۔پوسٹ مارٹم رپورٹوں میں سب کے جسم میں مہلک مقدار میں سائنائیڈ کی موجودگی سامنے آئی، جس کے بعد پولیس نے بڑے پیمانے پر تفتیش شروع کی اور بالآخر اکتوبر 2009 میں موہن کو گرفتار کر لیا گیا، یہ کیس نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں خوف اور حیرت کا باعث بنا۔



سائنائیڈ واردات کیسے کی گئی؟

سائنائیڈ موہن کی قتل کی داستان 2003 سے 2009 تک پھیلی ہوئی ہے، جس دوران کم از کم 20 خواتین اس کے ہاتھوں جان سے گئیں۔جون 2003 میں مقامی اسپتال کی ایک نرس انیتا لاپتہ ہوئی، بعد ازاں اس کی لاش لاوارث حالت میں ملی۔ ابتدا میں اسے خودکشی قرار دیا گیا، مگر یہ دراصل ایک ہولناک سلسلے کی پہلی کڑی تھی۔اگلے چند برسوں میں کرناٹک کے مختلف شہروں میں اسی نوعیت کے کئی واقعات پیش آئے، مگر مختلف تھانوں میں رابطے کی کمی کے باعث پولیس طویل عرصے تک ان وارداتوں کو آپس میں نہ جوڑ سکی۔

2005میں 6 خواتین ایک ہی طریقے سے ہلاک ہوئیں، موہن انہیں شادی کے جھوٹے وعدوں پر ورغلا کر ایسی گولیاں دیتا جنہیں مانع حمل ادویات بتایا جاتا مگر وہ درحقیقت سائنائیڈ سے بھری ہوئی ہوتیں۔2008کے آخر اور 2009 کے آغاز میں پولیس نے ان اموات کے درمیان مماثلت کو محسوس کیا۔ ایک خاتون کی جان بچ جانے سے معاملہ کھلا اور بالآخر اکتوبر 2009 میں موہن کو گرفتار کرلیا گیا، یوں اس کی خونریز داستان کا اختتام ہوا۔

دلہن کے لباس میں ملنے والی لاشوں کے پیچھے کون تھا؟؟

لرزہ خیز طریقہ واردات

موہن کا طریقہ واردات نہایت منظم اور بے رحمانہ تھا، وہ زیادہ تر معاشی یا سماجی طور پر کمزور خواتین کو نشانہ بناتا، ان سے محبت اور شادی کے وعدے کرتا اور آہستہ آہستہ ان کا اعتماد حاصل کرلیتا۔ پھر انہیں ایک فرضی دنیا میں جینے پر آمادہ کرتا، اور خود کو بااثر دولت مند  اور خوشحال انسان ظاہر کرتا۔اس کے بعد وہ خواتین کو قیمتی زیورات دلانے کا جھانسہ دیتا مگر دراصل نقلی زیورات خریدتا تاکہ بعد میں کوئی سراغ نہ مل سکے۔اپنے مقصد میں کامیابی کے بعد وہ لڑکی کے قتل کے لیے سائنائیڈ کی کیپسولز استعمال کرتا، جو مانع حمل گولیوں کے نام پر دی جاتی تھیں۔ متاثرہ خواتین جیسے ہی وہ گولیاں کھاتیں، چند ہی لمحوں میں موت کے منہ میں چلی جاتیں اور موہن لاشوں کو وہیں چھوڑ کر فرار ہو جاتا، یوں معاملہ بظاہر خودکشی یا ذاتی المیے کا تاثر دیتا۔

متاثرہ خواتین کی دردناک کہانیاں

سائنائیڈ موہن کا شکار بننے والی خواتین مختلف پس منظر سے تعلق رکھتی تھیں، مگر سب میں ایک یہ بات مشترک تھی کہ کسی نہ کسی طرح وہ کمزور مالی حالات کا سامنا کر رہی تھیں۔بنتوال کی ایک 22 سالہ لڑکی، پُتور کی 28 سالہ گھریلو ملازمہ اور سلیا کی 18 سالہ طالبہ۔ یہ محض چند نام ہیں، جنہیں موہن نے محبت اور شادی کے وعدوں سے دھوکا دیا اور پھر بے دردی سے قتل کر دیا۔ یہ خواتین محض اعداد و شمار نہیں تھیں بلکہ جیتی جاگتی زندگیاں تھیں جن کے خواب موہن کی درندگی کی نذر ہوگئے۔

قاتل کا عبرتناک انجام : انصاف کی فتح

اکتوبر 2009 میں گرفتاری کے بعد سائنائیڈ موہن کے خلاف طویل عدالتی کارروائیاں شروع ہوئیں۔ فروری 2013 میں اسے پہلی مرتبہ ایک 22 سالہ خاتون کے قتل میں سزا سنائی گئی۔ بعد ازاں مختلف مقدمات میں اسے قتل کی 20 وارداتوں کا مجرم قرار دیا گیااستغاثہ نے موبائل فون ریکارڈز، سناروں کے بیانات، بس کنڈکٹروں کی گواہیوں اور دیگر شواہد کی بنیاد پر عدالت میں کیس کو سچا ثابت کیا۔

 دفاع کی جانب سے ناکافی ثبوت کا مؤقف اختیار کیا گیا، مگر عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔ موہن کو متعدد مقدمات میں عمر قید اور پانچ کیسز میں سزائے موت سنائی گئی۔یہ فیصلہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف کی ایک کرن ثابت ہوا بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک تلخ یاد دہانی بھی کہ اعتماد کے لبادے میں چھپا درندہ کس طرح بے گناہوں کی زندگیاں نگل سکتا ہے۔




اشتہار

Follow us on Google News

Follow Us

اشتہار

Follow us on Google News

Follow Us