کراچی، بچوں کے حفاظتی ٹیکے پروگرام میں لڑکیوں کیلئے ایچ پی وی ویکسین بھی شامل

Karachi: HPV vaccine for girls included in children's immunization program
حکومت سندھ نے صوبے میں لڑکیوں کو ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین کو بچوں کے حفاظتی ٹیکے (ای پی آئی) پروگرام میں شامل کرلیا گیا ہے جس کے بعد اس پروگرام میں بچوں کی 13 بیماریوں سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین ہوگئی ہے جو صرف 9 سال سے بڑی عمر کی لڑکیوں کو لگائی جائے گی۔ایکسپریس نیوز کو بچوں کے حفاظتی ٹیکہ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راج کمار نے بتایا کہ گزشتہ دنوں ایچ پی وی ویکسین کے حوالے سے کراچی سمیت سندھ بھر کے تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسران کو جاری ایک مکتوب میں کہا گیا ہے کہ یکم جنوری 2026 سے روٹین ایمیونائزیشن پروگرام میں ایچ پی وی یکسین کو شامل کرلیا گیا ہے۔

 جس میں 9 سال تک کی عمر کی لڑکیوں کو ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسیر کو ہدایت کی گئی ہے کہ ویکسین ای پی آئی کے حفاظتی مراکز میں 9 سال تک کی عمر کی آنے والی بچیوں کو لگائی جائے۔ڈاکٹر راج کمار نے بتایا کہ حکومت سندھ نے 3 سال کی ویکسین کے لیے 797 ملین روپے وفاقی حکومت کو دیے ہیں اور ہر سال 7 لاکھ لڑکیوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کی خریداری وفاقی حکومت کرے گی لیکن اس ویکسین کی خریداری میں حکومت سندھ کے ذمہ 797 ملین روپے آئے ہیں جو حکومت سندھ وفاق کو ادا کرے گی۔

واضح رہے کہ کراچی سمیت سندھ اور پنجاب 15 ستمبر 2025 میں پہلی بار لڑکیوں کو سروئیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے لگائی جانے والی حفاظتی ایچ پی وی ویکسین مہم شروع کی گئی تھی جس میں والدین کی اکثریت نے عدم اعتمادکا اظہارکرتے ہوئے اپنی بچیوں کو ویکسین لگوانے سے انکار کیا تھا۔اس مہم کے دوران کراچی سمیت سندھ بھر کی9 سے15سال کی 4.1ملین لڑکیوں کو ویکسین لگانے کا ہدف  تھا۔محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے حفاظتی ٹیکے پروگرام نے دعویٰ کیا ہے کہ ویکسین مہم کامیاب رہی لیکن صورت حال اس کے برعکس ہے۔ 

ویکسین مہم کی ناکامی کی بڑی وجہ محکمہ صحت کی جانب سے تشہیری اور آگامی مہم چلائے جانے کے باوجود والدین کی جانب سے کوئی مؤثر رسپانس نہیں دیکھنے میں آیا۔محکمہ صحت کی جانب سے مختلف ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر اشتہارات کے ذریعے والدین کو ویکسین کی افادیت سے آگاہ کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں مختلف مقامات پر پروگرام بھی منعقد کیے گئے تھے۔دوسری جانب ویکسین مخالف عناصر نے سوشل میڈیا پر اس ویکسین کے خلاف منفی مہم چلائی جو خاصی مؤثر رہی اور سوشل میڈیا پر  اے آئی کے ذریعے ایسی ویڈیو بناکر چلائی گئی جس کے وجہ سے والدین میں خوف وہراس پھیل  گیا۔

محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے EPI پروگرام کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق کراچی میں ویکسین مہم کی افادیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ  ضلع کیماڑی میں 9 سے 15 سال عمر کی لڑکیوں کی ایک لاکھ 54 ہزار 632  میں سے صرف 16 فیصد لڑکیوں کو حفاظتی ویکسین لگائی گئی، ضلع شرقی میں 2 لاکھ 91 ہزار 552 لڑکیوں میں سے صرف 37 فیصد لڑکیوں کو حفاظتی ویکسین لگائی گئی اسی طرح ضلع ساؤتھ میں ایک لاکھ 73 ہزار 772 لڑکیوں میں سے صرف 39 فیصد لڑکیوں،  ضلع سینٹرل میں دو لاکھ 84 ہزار 976 لڑکیوں میں سے صرف 42 فیصد لڑکیوں کو ویکسین لگائی گئی۔





اشتہار

Follow us on Google News

Follow Us

اشتہار

Follow us on Google News

Follow Us