شدید سرد لہر غفلت اور لاپرواہی برتنے والوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے: ماہرینمزید پڑھیں : https://t.co/4xFUS4Lzhg#ExpressNews #BreakingNews #SafetyAlert #MotorcycleSafety #PakistanNews #ExpressNews pic.twitter.com/cwGkDd3Siz— Express News (@ExpressNewsPK) January 25, 2026
ان کا کہنا تھا کہ گھروں میں موجود نوازئیدہ بچوں کو اس سخت ترین سرد موسم میں مکمل ڈھانپ کر رکھا جائے اور وہ مائیں جو اپنے نوزائیدہ کو بریسٹ فیڈنگ کراتی ہیں ان کو چاہیے وہ ٹھنڈے یا نارمل پانی سے بھی پرہیز کریں اور پینے کے لئے نیم گرم پانی کا استعمال رکھیں۔ ذرا سے غفلت سے نوزائیدہ کو نزلہ،زکام اور بخار لاحق ہوسکتا ہے۔پروفیسر خالد شفیع کا کہنا تھا کہ بچوں اور ضیعف العمر افراد گھروں میں رہیں جبکہ آفس جانے والے اورنوجوان حضرات مکمل گرم کپٹروں کے ساتھ سر ڈھانپ کررکھیں۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کو اس موسم میں نیم گرم پانی استعمال کرایا جائے اور بچوں کو گھروں میں ہی رکھا جائے۔ تقریبات میں چھوٹے بچوں کو لے جانے سے گریز کریں کیونکہ رات کے وقت موسم مزید سرد ہورہا ہے۔ان ماہرین نے بتایا کہ چھوٹے بچوں میں لاپرواہی کی وجہ سے نمونیہ کا مرض بھی تیزی سے پھیل رہا ہے لہذا احتیاط کریں۔ بریسٹ فیڈ کرانے والی مائیں گھر کے گرم مشروبات استعمال کریں ،کھٹی اشیا سے پرہیز کریں، گھر میں تیار کی جانے والی یخنی ،سوپ کا استعمال کرتے رہیں۔ حلق خشک ہونے کی صورت میں نیم گرم پانی کا استعمال رکھا جائے۔
امراض قلب کے معروف ڈاکٹر حمید اللہ ملک نے بتایا کہ سرد موسم کی وجہ سے جسم میں خون کی روانی سلو ہو جاتی ہے۔ دل کے مریض اپنے سینے کو سرد ہواؤں سے بچائیں کیونکہ اس موسم میں دل اور دمے مریض سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خون میں 40 فیصد پانی شامل ہوتا ہے سرد موسم میں عام طور پر پانی کا استعمال کیاجاتا جس کی وجہ سے خون کی روانی متاثر ہو جاتی لہذا اس موسم میں نیم گرم پانی کا نارمل استعمال رکھیں۔ دل کے وہ مریض جن کے بائی پاس ہوچکے ہیں اس موسم میں بہت زیادہ احتیاط کریں، سینہ ڈھانپ کر رکھیں، گھر میں واک جاری رکھیں۔