پاکستان کا چین سے 12 ارب ڈالر کا HQ-19 میزائل شیلڈ معاہدہ، جنوبی ایشیا کے ایٹمی توازن میں بڑی تبدیلی کا امکان

Pakistan's $12 billion HQ-19 missile shield deal with China, likely to bring major change to South Asia's nuclear balance

پاکستان کی جانب سے چین کے جدید ترین اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹم HQ-19 کی ممکنہ خریداری کو جنوبی ایشیا کی جدید عسکری تاریخ کے اہم ترین دفاعی معاہدوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تقریباً 12 ارب ڈالر مالیت کے اس ممکنہ معاہدے کو خطے میں دفاعی اور ایٹمی توازن تبدیل کرنے والی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو بھارت کی میزائل حکمتِ عملی اور خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ڈیفنس سکیورٹی ایشیا کے مطابق HQ-19 سسٹم بیلسٹک میزائلوں، ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید ہتھیاروں کو فضا کی بلندی پر ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر یہ نظام پاکستان کے دفاعی نیٹ ورک کا حصہ بنتا ہے تو یہ بھارتی میزائل حملوں اور دور مار اسٹرائیک صلاحیت کے خلاف ایک نئی دفاعی تہہ فراہم کرے گا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان صرف HQ-19 تک محدود نہیں بلکہ چین کے J-35A اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں اور KJ-500 ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول طیاروں کے حصول کی جانب بھی بڑھ رہا ہے۔ ان تمام سسٹمز کو ملا کر پاکستان ایک مربوط “کِل چین” دفاعی ڈھانچہ تشکیل دے سکتا ہے، جس کے ذریعے ریڈار نگرانی، اسٹیلتھ حملے اور میزائل دفاعی صلاحیت کو ایک مرکزی نیٹ ورک کے تحت مربوط کیا جا سکے گا۔جون 2025 میں پاکستان کے حکومتی ذرائع سے منسلک اعلان کے بعد اس منصوبے کی اہمیت مزید بڑھ گئی تھی، جس میں بتایا گیا کہ چینی حکومت نے وزیراعظم شہباز شریف کے وسیع دفاعی تعاون پروگرام کے تحت HQ-19 سسٹم کی باضابطہ پیشکش کی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پیغام صرف بھارت ہی نہیں بلکہ امریکہ کے لیے بھی ایک واضح جیوپولیٹیکل اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ مذاکرات کی رفتار بھارت اور پاکستان کے درمیان “آپریشن سندور” سے منسلک چار روزہ کشیدگی کے بعد تیز ہوئی، جس دوران بھارت نے براہموس سپرسونک کروز میزائل، SCALP-EG پریسیژن ہتھیاروں اور دیگر لانگ رینج اسٹرائیک سسٹمز کے ذریعے حملے کیے تھے۔ ان کارروائیوں نے مبینہ طور پر پاکستان کے موجودہ فضائی دفاعی نظام، خصوصاً HQ-9B نیٹ ورک، کی بعض کمزوریوں کو نمایاں کیا۔علاقائی دفاعی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ پاکستانی اہلکار چین میں پہلے ہی تربیت حاصل کر رہے ہیں جبکہ اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان خریداری کے مالیاتی ڈھانچے، تعیناتی کے مقامات اور سسٹم کی مرحلہ وار شمولیت سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

اگرچہ مغربی دفاعی اداروں نے ابھی تک 12 ارب ڈالر کے مکمل معاہدے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی، تاہم پاکستانی اور چینی دفاعی ذرائع میں مسلسل سامنے آنے والی رپورٹس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ مذاکرات ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھ چکے ہیں اور ممکنہ طور پر آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق اگر HQ-19 پاکستان میں تعینات ہو جاتا ہے تو اس سے چین کا میزائل دفاعی اور نگرانی کا دائرہ اثر بحرِ ہند کے سیکیورٹی ماحول تک مزید گہرا ہو جائے گا۔ 

اس کے نتیجے میں پاکستانی فضائی دفاعی نظام اور چین کے وسیع علاقائی نگرانی نیٹ ورک کے درمیان زیادہ مربوط تعاون ممکن ہو سکے گا۔بھارتی عسکری منصوبہ سازوں کے لیے پاکستان میں چینی ساختہ exo-atmospheric interception نظام کی موجودگی مستقبل میں تیز رفتار جوابی حملوں، گہرائی میں کیے جانے والے پریسیژن اسٹرائیکس اور روایتی جنگ میں برتری کی حکمت عملی کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک دفاعی خریداری نہیں بلکہ چین اور پاکستان کے درمیان ایک ایسے مربوط اسٹریٹجک ایرو اسپیس شیلڈ کے قیام کی بنیاد بن سکتی ہے، جو جنوبی ایشیا میں بھارت کی بڑھتی ہوئی فضائی، میزائل اور لانگ رینج اسٹرائیک برتری کو براہِ راست چیلنج کرے گی۔



اشتہار

Follow us on Google News

Follow Us

اشتہار

Follow us on Google News

Follow Us