چین میں سرکاری افسر کو 325ملین ڈالرز رشوت لینے کے جرم میں سزائے موت سنادی گئی غیر ملکی میڈیا کے مطابق چینی عدالت نے نانجنگ کے سابق اقتصادی ترقیاتی عہدیدار یانگ یولین کو تقریبا 30سال کے دوران 325ملین ڈالرز (دو ارب یوان)کی رشوت لینے کے جرم میں سزائے موت سنا ئی۔عدالتی فیصلے کے مطابق 1993ء سے 2023ء کے درمیان یانگ یولین نے منصوبوں کی منظوری، کاروباری سہولت، زمین کی الاٹمنٹ اور سرمایہ فراہم کرنے کے بدلے بھاری رقوم اور قیمتی اثاثے وصول کیے۔
عدالت نے انہیں رشوت لینے، سرکاری فنڈز میں خردبرد کرنے، رشوت دینے، عوامی رقوم کے غلط استعمال کرنے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ کا بھی مجرم قرار دیا ہے۔عدالت کے مطابق ملزم نے اپنے آخری بیان میں جرم کا اعتراف کرتے ہوئے ندامت کا اظہار کیا تھا۔عدالت نے مجرم یانگ یولین ان کی تمام ذاتی جائیداد ضبط کرنے اور رشوت کی مکمل رقم واپس لینے کا بھی حکم دیا ہے۔