سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے پروسٹیٹ کینسر کے جسم کے دیگر حصوں تک پھیلنے اور انہیں شدید تکلیف کا سامنا ہونے کا انکشاف ہوا ہے، سابق صدر کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے ایک انٹرویو میں والد کی صحت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بیماری ہڈیوں اور دیگر حصوں تک پھیل چکی ہے۔ بی بی سی کو دیئے گئے ایک تفصیلی انٹرویو کے دوران ہنٹر بائیڈن اپنے والد کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے انہوں نے کہا کہ جو بائیڈن کا کینسر پھیل کر ہڈیوں اور جسم کے مزید حصوں تک پہنچ چکا ہے، جو انتہائی تکلیف دہ اور کئی حوالوں سے کمزور کرنے والی صورتحال ہے، والد کی بیماری کی تشخیص پورے خاندان کے لیے ایک مشکل تجربہ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ والد کی موجودہ صحت کی صورتحال دیکھنا انتہائی افسوسناک ہے، بیماری کے باوجود سابق امریکی صدر عوامی معاملات پر اپنا مؤقف پیش کرتے رہتے ہیں اور ان مسائل پر بات کرتے ہیں جو ان کے لیے اہم ہیں، جو بائیڈن اب بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہیں اپنے ملک پر گہرا یقین ہے۔ہنٹر بائیڈن نے انٹرویو کے دوران اپنے والد کی جانب سے انہیں دی گئی صدارتی معافی کا بھی ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ اگر ان کے والد انہیں معافی نہ دیتے تو موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کے خلاف انتقامی کارروائی کرتے۔
اس فیصلے پر تنقید کی جا سکتی ہے اور اس سے سابق صدر جو بائیڈن کی سیاسی میراث پر سوالات اٹھے ہیں، لیکن میں ذاتی طور پر اپنے والد کے اس فیصلے پر شکر گزار ہوں خیال رہے کہ 83 سالہ جو بائیڈن نے گزشتہ سال مئی میں اپنے کینسر کی تشخیص کا اعلان کیا تھا، وہ وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے تقریباً چار ماہ بعد اس بیماری کے بارے میں سامنے آئے تھے، ان کی عمر بھی صدارتی دور کے دوران مسلسل بحث کا موضوع رہی، جب کہ 2024ء کے صدارتی انتخابات میں دوبارہ امیدوار بننے کی کوشش کے دوران ان کی صحت کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے تھے۔