
جاپان کی وزیراعظم سانے تاکائیچی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔جاپانی وزیراعظم نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں پہنچ چکی ہے، اس لیے موجودہ فوجی کشیدگی میں کمی، صورتحال کو جلد معمول پر لانے اور مختلف معاملات، بشمول جوہری مسئلے، کو امریکا اور ایران کے درمیان طے شدہ مفاہمت کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔
سانے تاکائیچی نے آبنائے ہرمز سے آزادانہ اور محفوظ بحری آمدورفت بغیر اضافی اخراجات کے یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز استعمال کرنے والی ریاستوں سمیت عالمی برادری کے ساتھ اس معاملے پر قریبی مشاورت کرے۔جاپانی وزیراعظم نے آبنائے باب المندب میں استحکام کو توانائی کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان اور تجارتی جہازوں و تیل سے متعلق تنصیبات پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
گفتوگوی تلفنی رئیسجمهور با نخست وزیر ژاپن🔹️ایران به هیچ وجه خارج از قوانین بینالمللی عمل نکرده است.🔹️امیدوارم تلاشهای دیپلماتیک ژاپن برای برقراری صلح و ثبات در منطقه ثمربخش باشد.🔹️تشکر رئیس جمهور از دیدگاههای مثبت ژاپن نسبت به ضرورت توقف جنگhttps://t.co/TnAdtl0WLI— pezeshkian (@drpezeshkian2) August 12, 2026
انہوں نے ایران سے حوثیوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ کرنے کی درخواست بھی کی۔سانے تاکائیچی نے ایران میں زیرِ حراست ایک جاپانی شہری کے معاملے کو بھی جلد حل کرنے کی درخواست دہرائی، جسے گزشتہ اپریل میں ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان جاری رابطوں اور آئندہ کے لائحہ عمل سے جاپانی وزیراعظم کو آگاہ کیا۔باب المندب کی صورتحال پر پزشکیان نے بتایا کہ ایران مسائل کے حل کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور اس سلسلے میں سعودی عرب کے ساتھ بھی مذاکرات جاری ہیں۔دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی میں جلد کمی لانے کے لیے قریبی رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔