
دو "ضرورت مند"جب آپس میں تعلق بناتے ہیں توشروع شروع میں بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ دونوں دل ہی دل میں سوچ رہے ہوتے ہیں کہ یہ وہی ہےجس کا میں آج تک انتظار کرتی /کرتا آیا ہوں یہ وہی "خاص "ہےجو میری زندگی کوخوشیوں سے بھر دے گاغموں سے نجات دلائے گامیرے زخم بھرے گاماضی کو مرہم لگائے گامیرے لئے تارے توڑ کے لائے گامیں روؤں تو مجھےہنسائے گامیں روٹھوں تومجھے منائے گامرتے دم تک میرا ساتھ نبھائے گاگو کے میری تمام "ضرورتیں"جنھیں میں نے خواہشوں کا نام دے رکھا ہے کو پورا کرے گادونوں کو یہ نہیں پتا ہوتا کہ اندر سے ہم دونوں ہی ضرورت مند ہیں یعنی صرف لینے والے ہیں دینے والے نہیں جب تعلق کا"نیا پن"ختم ہوتا ہے توایک دوسرے سےباندھی امیدیں بھی مرنے لگتی ہیں دونوں یہ سوچتے ہیں کہ یہ وہ نہیں ہےجسے میں نے سمجھا تھا کہ میری ضرورتیں پوری کرے گا دونوں کو درد ہو نے لگتا ہےدونوں ایک دوسرے سےدور ہونے لگتے ہیں فوراََ میسج کا جواب دینے والےایک دوسرے کوکئی کئی دن جواب نہیں دیتےدونوں کے درمیان کالز کم ہو جاتی ہیں بلیم گیم شروع ہو جاتی ہےتم یہ ہوتم وہ ہوتم ایسے ہوتم ویسے ہویہ کیا ہے؟وہ کیا ہے؟تم یہ نہیں کرتےتم وہ نہیں کرتےلاشعور کی لڑائی شعوری طور پر ہونے لگتی ہےیہاں تک کے بات بریک اَپ تک پہنچ جاتی ہے جو ہاتھ میں ہواسے چھوڑنے سے پہلےکسی نئے کی تلاش شروع ہو جاتی ہےایک ضرورت منددوسرے ضرورت مند کوچھوڑ کرکچھ "نیا" ڈھونڈنے کے لئےنکل کھڑا ہوتا ہےنئے کے ساتھجب “نیا پن” ختم ہوتا ہے توپتا چلتا ہے کہ یہ بھی ضرورت مند ہے کہانی خود کوبار بار دھراتی ہے اورکردار کو سمجھ نہیں آتی کہ کہانی تب ختم ہو گی زندگی خوشیوں سےمحبت سےتب بھرے گی جب یہ سمجھ آ جائے گی کہ لینے والوں کودینے والے کم ہی ملتے ہیں مگردینے والوں پردنیا ٹوٹ پڑتی ہے۔