کیا سپریم کورٹ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت معلومات دینے کی پابند ہے یا نہیں ؟ فیصلہ آج ہو گا

کیا سپریم کورٹ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت معلومات دینے کی پابند  ہے یا نہیں ؟ فیصلہ آج  ہو گا

پاکستان کےآئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت  ہر فرد  کو معلومات   حاصل کرنے کا حق حاصل ہے  مگر  شہریوں کو معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت عدالتوں  اور دیگر اداروں سے معلومات لینے میں مشکلات  کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی متعدد وجوہات ہیں۔ 


آرٹیکل ۱۹ اے اور معلومات تک رسائی 

۔آئین پاکستان کے آرٹیکل 19A کے تحت عوام کے معلومات تک رسائی کے بنیادی حق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے قوانین بنائے گئے ہیں ۔  پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ۱۹ اے میں حق معلومات کو ایک بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت، ہر شخص کو "مفاد عامہ سے متعلق معلومات تک رسائی کا حق ہے، جس میں سرکاری محکموں اور اداروں کے ریکارڈ بھی شامل ہیں۔"

یہ حق شہریوں کو حکومت کے کاموں کی نگرانی کرنے، بدعنوانی کو روکنے اور اپنے حقوق کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے۔

آئینی فریم ورک

1973 کے آئین میں صرف اظہار رائے کی آزادی کو خصوصی طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 1993 کے نواز شریف کیس میں فیصلہ دیا تھا کہ معلومات حاصل کرنے کے حق کو آئین کی "آزادی اظہار" سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ 2007 میں، آئینی عدالت نے فیصلہ کیا کہ "معلومات تک رسائی آئینی جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔ عوام کو ہر وہ چیز جاننے کا حق ہے جو عوامی کارکنان کرتے ہیں۔ 2010 میں، آرٹیکل 19-A کے تحت معلومات کے واضح حق کو شامل کرنے کے لیے آئین میں ایک اہم ترمیم کی گئی تھی، جس میں اس بات کی ضمانت دی گئی تھی کہ "ہر شہری کو عوامی اہمیت کے تمام معاملات میں معلومات تک رسائی حاصل کرنے کا حق ہوگا جو ضابطے اور معقول پابندیوں کے تابع ہو گا۔ قانون کے ذریعہ نافذ کیا گیا ہے۔"

اطلاعات کا حق قانون

اکتوبر 2002 میں صدر مشرف نے فریڈم آف انفارمیشن آرڈیننس 2002 (FOI آرڈیننس) جاری کیا، جو بڑی حد تک ایشیائی ترقیاتی بینک کی پہل پر تھا۔ اگرچہ یہ آرڈیننس چار ماہ کے اندر ختم ہو جانا چاہیے تھا، لیکن یہ آئین میں 17ویں ترمیم کے بعد مستقل ہو گیا جس نے جنرل مشرف کے اختیار کردہ تمام احکامات/آرڈیننس قوانین کو تحفظ فراہم کیا۔

جولائی 2012 میں، سینیٹ نے معلومات تک ایک جامع رسائی کے قانون کی وضاحت کے لیے ایک کمیٹی کو لازمی قرار دیا اور ایک نئے آر ٹی آئی بل کا ایک بہت مضبوط مسودہ تیار کیا گیا۔ اس نے بہت ترقی پسند پنجاب اور خیبر پختونخوا صوبوں کے آر ٹی آئی قوانین سے تحریک حاصل کی اور دیگر خصوصیات کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط انفارمیشن کمیشن قائم کیا۔ اگر اس بل کو اسی طرح اپنایا جاتا  تو یہ دنیا کے سب سے مضبوط آر ٹی آئی قوانین میں سے ایک ہوتا

معلومات تک رسائی

معلومات تک رسائی کا مطلب ہے کہ کسی بھی شخص کو حکومت کے پاس موجود معلومات تک رسائی کا حق ہونا چاہیے۔ یہ حق شہریوں کو حکومت کے کاموں کے بارے میں باخبر رہنے، اپنے حقوق کو سمجھنے اور ان کا دفاع کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

معلومات تک رسائی کے کئی فوائد ہیں، بشمول:شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینا       ،   بدعنوانی کو روکنا شہریوں کی شرکت کو بڑھانا         ،      جمہوریت کو مضبوط بنانا


آرٹیکل ۱۹ اے اور معلومات تک رسائی کے درمیان تعلق
آرٹیکل ۱۹ اے حق معلومات کو ایک بنیادی حق کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت کو شہریوں کو معلومات تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔
معلومات تک رسائی آرٹیکل ۱۹ اے کے تحت ایک بنیادی حق کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ شہریوں کو حکومت کے کاموں کی نگرانی کرنے اور اپنے حقوق کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے۔
پاکستان میں، حق معلومات کو بہتر بنانے کے لیے کئی قوانین اور اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
• حق معلومات ایکٹ 2017، قومی شفافیت اور احتساب کمیشن کا قیام آزاد اور خود مختار معلومات کمیشنز کا قیام
ان اقدامات سے حق معلومات کو فروغ دینے اور پاکستان میں شفافیت اور جوابدہی کو بڑھانے میں مدد ملی ہے۔

مختار احمد نامی ایک شہری  جو کہ سابق انفارمیشن کمشنر   پنجاب  تعینات رہے ہیں اور شعبہ ڈویلپمنٹ میں سنٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹیو   کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر  ہیں جنہوں نے  رجسٹرار سپریم کورٹ  کو 10 اپریل 2019 کو درخواست دی کہ سپریم کورٹ میں مختلف عہدوں پر بھرتی کے حوالے سے معلومات فراہم کی جائیں،  درخواست گزار نے کہا کہ اسے    تحریری طور پر سپریم کورٹ ملازمین کی منظور شدہ تعداد ، خالی اسامیوں کی تعداد ، ریگولر اور کنٹریکٹ اسٹاف کی بھرتی ، جنوری 2017 سے لیکر اب تک تخلیق کی گئی اسامیوں ، خواتین اسٹاف ، معذور ملازمین اور خواجہ سرا ملازمین کے متعلق معلومات فراہم کی جائیں ۔



رجسٹرار سپریم کورٹ کے معلومات فراہم نہ کرنے  پر شہری نے پاکستان انفارمیشن کمیشن میں 6مئی 2019 کو اپیل کر دی  کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے اسے معلومات فراہم نہیں کی گئی سپریم کورٹ کے رجسٹرار کا موقف تھا کہ انہوں  نے معلومات کی فراہمی کی درخواست اس بنیاد پر مسترد کر دی تھی کہ سپریم کورٹ پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا بلا شبہ اس میں ان اداروں کے درمیان ’’وفاقی قانون کے تحت کسی بھی عدالت، ٹربیونل، کمیشن یا بورڈ‘‘ کا ذکر ہے جن سے معلومات طلب کی جا سکتی ہیں۔

 شہری کی شکایت پر پاکستان انفارمیشن کمیشن نے 16 جون  2019اور 26 جولائی 2019 کو  رجسٹرار سپریم کورٹ کو  نوٹسز بھیجے پاکستان انفارمیشن کمیشن نے مختار احمد کی دائر کردہ اپیل منظور کرکے 12 جولائی 2021 کو  فیصلہ کر کے رجسٹرار سپریم کورٹ کو 20 دن میں شہری کو  نہ صرف  یہ معلومات فراہم کرنے کا حکم دیدیا بلکہ ان  تمام معلومات کو جو  رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے سیکشن 5 کے تحت ویب سائٹ پر تمام شہریوں بشمول نابینا، کم بینائی، جسمانی طور پر معذور، بولنے اور سماعت سے محروم افراد کو بھی یہ معلومات   فراہم کرنے کی ہدایات بھی کی گئیں

10 اگست 2021 کو، رجسٹرار، سپریم کورٹ آف پاکستان کے وکیل چوہدری عامر رحمن نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے 12 جولائی 2021 کو جاری کردہ حکم واپس لینے  یا فیصلہ میں ترمیم  کرنے کی درخواست  دائر کی اور یہ  بھی اپیل کی کہ اسے انصاف کے مفاد میں مختار احمد علی بمقابلہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار کے طور پر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ 17 نومبر 2021 کو   پاکستان انفارمیشن کمیشن نے اس  فیصلہ میں  اس درخواست کو خارج کر دیا  کہ یہ درخواست انفارمیشن  کمیشن کو عطا      ءکردہ اختیارات کے دائرہ کار سے باہر ہے

یکم دسمبر 2021 کو  رجسٹرار سپریم کورٹ نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف  اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی جس میں  ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دیگر نقاط کے ساتھ ساتھ دلیل دی کہ سپریم کورٹ 

پاکستان کوئی ایسا عوامی ادارہ نہیں ہے جہاں سے معلومات حاصل کی جا سکیں اور مانگی گئی معلومات عوامی ریکارڈ کے دائرہ کار میں نہیں ہیں جیسا کہ معلومات تک رسائی کے حق کے سیکشن 6 میں فراہم کیا گیا ہے ایکٹ، 2017 (ایکٹ)

 سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے پہلے اس بنیاد پر مختار احمد کی درخواست مسترد کر دی کہ معلومات کی فراہمی کا قانون سپریم کورٹ پر لاگو نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کا کہنا تھا کہ آر ٹی آئی قانون میں لکھا ہے کہ ’’وفاقی قانون کے تحت کسی بھی عدالت، ٹربیونل، کمیشن یا بورڈ‘‘ پر آر ٹی آئی قانون لاگو ہوتا ہے تاہم یہ قانون اسلئے سپریم کورٹ پر لاگو نہیں ہوتا کہ سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے نہ کہ کسی وفاقی قانون کی وجہ سے تخلیق ہونے والا ادارہ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ   کے سنگل بینچ نے 3 اپریل 2023 کو فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے مختار احمد کے حق میں ہونے والے فیصلہ کو برطرف کر دیا     مختار احمد کے مطابق انہیں پتہ نہیں چلا کہ فیصلہ کب  ہوا جب انہیں پتہ چلا تو فیصلے کیخلاف اپیل کا وقت گزرچکا تھا لیکن اس کے لئے انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹراکورٹ اپیل دائر کی جو  زیادہ ٹائم پیریڈ گزرنے کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکی اور اسے 13 جون 2023 کو خارج کر دیا گیا

پہلے سنگل بنچ پھر ڈویژن بنچ سے شہری کو ریلیف نہ مل سکا تو شہری سپریم کورٹ پہنچ گیا     شہری مختار احمد نے 9 ستمبر 2023 کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی  جس پر سپریم کورٹ کی جانب سے اعتراضات دور کرنے کے لئے 23 ستمبر تک کی مہلت دی گئی اعتراضات دور کرنے کے بعد اب سپریم کورٹ  میں  چیف جسٹس  قاضی فائز عیسیٰ ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ کے بنچ میں 27 ستمبر  کو کیس سماعت کے لیے مقرر ہو ا   جس کا فیصلہ محفوط کر لیا گیا  تھا اور  سپریم کورٹ کی جانب سے یہ فیصلہ آج 16 اکتوبر 2023 کو سنایا جائے گا


انفارمیشن ایکٹ کے تحت سپریم کورٹ کے ملازمین کے ریکارڈ تک رسائی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ ویسے پوچھ رہا ہوں آپ نے ان معلومات کا کرنا کیا ہے؟
درخواست گزار نے جواب دیا کہ معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت میں یہ بتانے کا پابند نہیں ہوں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ صرف اپنی معلومات کے لیے پوچھ رہا ہوں، معلوم ہے آپ قانونی طور پر بتانے کے پابند نہیں۔
درخواست گزار مختار علوی نے کہا کہ ملکی اداروں میں شفافیت کے لیے کام کررہا ہوں اس لیے معلومات درکار ہیں، قانون اور آئین میں کسی آئینی ادارے کو معلومات تک رسائی سے استثنیٰ نہیں۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ انفارمیشن کمیشن میں رجسٹرار آفس نے کیا جواب جمع کرایا تھا؟ کیا رجسٹرار آفس نے آپ کو معلومات دیں؟
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ رجسٹرار آفس نے کمیشن کو آرڈر واپس لینے کا کہا، رجسٹرار کا مؤقف تھا انفارمیشن کمیشن سپریم کورٹ سے متعلق آرڈر نہیں دے سکتا،  معاملہ رٹ میں ہائی کورٹ گیا اور سنگل بینچ کا فیصلہ آچکا ہے۔
جسٹس اطہرمن اللّٰہ نے کہا کہ یہ ناقابل تصور ہے کہ سپریم کورٹ خود درخواست گزار بن کر کسی عدالت جائے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ رولز رجسٹرار کو سپریم کورٹ کی جانب سے درخواست گزار بننے کا اختیار نہیں دیتے۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کل کمیشن سپریم کورٹ ججز کی فیملی معلومات پبلک کرنے کا کہہ دے تو کیا ہو گا؟ کیا پھر وہ آرڈرزنظر انداز کر دیں گے یا چیلنج ہو گا؟
جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ  یہ بھی بتائیں پھر وہ آرڈر فیملی چیلنج کرے گی یا سپریم کورٹ؟
عدالت نے درخواست گزار مختار علوی اور اٹارنی جنرل کو تحریری جوابات 2 ہفتے میں جمع کرانے کا حکم دیا
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ہم اپنی روایت کا فیصلہ کر رہے ہیں، سپریم کورٹ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، موجودہ کیس میں پیچیدہ آئینی اور قانونی معاملات زیر غور ہیں، عدالت کو دنیا بھر کی نظائر سے متعلق بھی معاونت دی جائے، انفارمیشن کمیشن سپریم کورٹ کو حکم نہیں دے سکتا، ممکن ہے سپریم کورٹ کے ملازمین سے متعلق معلومات رضا کارانہ طور پر دے دیں، یہ معلومات دے سکتے ہیں کہ 2 ٹرانسجینڈرز ملازم سپریم کورٹ میں کام کرتے ہیں، یہ معلومات نہیں دی جاسکتیں کہ ٹرانسجینڈرملازمین کون ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے  آج  16 اکتوبر 2023 کو حق معلومات پر ایک تاریخی فیصلہ  کی توقع ہے۔ اس کیس کی سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کر رہی ہے۔
سپریم کورٹ کے اس کیس میں فیصلے سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ حق معلومات ایکٹ 2017 کے تحت حق معلومات کے دائرے کو واضح کرے گا۔ عدالت کا فیصلہ پاکستان میں سرکاری اداروں کی شفافیت اور جوابدہی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
بعض قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھنے اور سرکاری اداروں کے بارے میں معلومات تک عوام کے حق کو تسلیم کرنے کا امکان ہے۔ دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ عدالت رجسٹرار کے حق میں فیصلہ دے سکتی ہے اور یہ قرار دے سکتی ہے کہ مطلوبہ معلومات کو ظاہر کرنے سے مستثنیٰ ہے۔ بعض قانونی ماہرین نے اس بات کا امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ آرٹیکل  19-Aکے حوالہ سے مختار احمد کو   معلومات صرف اس لئے فراہم کی جائیں گی تاکہ شہری پاکستان انفارمیشن کمیشن کے قوانین کا استعمال کرتے ہوئے اسے روز کا معمول نہ بنا لیں بلکہ  معلومات کی رسائی کے کیس کا  نتیجہ جو بھی ہو، اس کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا پاکستان میں حق معلومات کے حق پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان ہے۔

آرٹیکل 19 اے اور معلومات تک رسائی کے فیڈرل ایکٹ دونوں پاکستانی شہریوں کو معلومات تک رسائی کا حق دیتے ہیں۔ تاہم، ان دونوں کے درمیان کچھ اہم فرق ہیں۔

آرٹیکل 19 اے پاکستان کے آئین کا ایک حصہ ہے، جبکہ معلومات تک رسائی کا فیڈرل ایکٹ ایک قانون ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آرٹیکل 19 اے کو قانون کے ذریعے منسوخ نہیں کیا جا سکتا، جبکہ معلومات تک رسائی کا فیڈرل ایکٹ قانون کے ذریعے منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

آرٹیکل 19 اے میں معلومات تک رسائی کے حق کو وسیع پیمانے پر بیان کیا گیا ہے، جبکہ معلومات تک رسائی کا فیڈرل ایکٹ معلومات تک رسائی کے حق کو مخصوص پیمانے پر بیان کرتا ہے۔ آرٹیکل 19 اے میں معلومات تک رسائی کے حق کو کسی بھی معلومات کے لیے دیا گیا ہے، جبکہ معلومات تک رسائی کا فیڈرل ایکٹ معلومات تک رسائی کے حق کو صرف حکومتی اداروں سے متعلق معلومات کے لیے دیا گیا ہے۔

آرٹیکل 19 اے میں معلومات تک رسائی کے حق کو کسی بھی شخص کے لیے دیا گیا ہے، جبکہ معلومات تک رسائی کا فیڈرل ایکٹ معلومات تک رسائی کے حق کو صرف پاکستانی شہریوں کے لیے دیا گیا ہے۔

ان فرقوں کے علاوہ، آرٹیکل 19 اے اور معلومات تک رسائی کا فیڈرل ایکٹ میں کچھ مماثلتیں بھی ہیں۔ دونوں معلومات تک رسائی کے حق کو ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ دونوں معلومات تک رسائی کے حق کو ایک ایسے حق کے طور پر تسلیم کرتے ہیں جس حق کو کسی بھی شخص  تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔

فیڈرل ایکٹ کے تحت سپریم کورٹ کیوں معلومات نہیں دے سکتا؟

فیڈرل ایکٹ کے تحت، سپریم کورٹ معلومات نہیں دے سکتا اگر معلومات قومی سلامتی یا خارجہ پالیسی کے لیے خطرہ ہو۔ یا اگر کسی پر مقدمہ چل رہا ہو یا چلنے والا ہو۔ یا کسی شخص کی ذاتی زندگی یا نجی معلومات میں مداخلت کرے۔

کسی غیر ملکی حکومت کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی ہو۔

سپریم کورٹ ان وجوہات کی بنیاد پر معلومات کو مسترد کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر سپریم کورٹ کے پاس کوئی ایسی معلومات ہے جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، تو وہ اس معلومات کو مسترد کر سکتی ہے۔

تاہم، سپریم کورٹ کو معلومات کو مسترد کرنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ معلومات کو مسترد کرنے کی وجہ حقیقی اور معقول ہے۔ اگر سپریم کورٹ معلومات کو مسترد کرنے کے لیے کوئی غیر منصفانہ یا بے بنیاد وجہ پیش کرتی ہے، تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے

شہری  مختار احمد جو کہ  سابق انفارمیشن کمشنر  ہیں انہوں نے  بتایا کہ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ سپریم کورٹ توفورا مجھے معلومات فراہم کر دے گی لیکن ایسا نہیں ہوا

سنٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹیو (سی پی ڈی آئی کے پراجیکٹ کوآرڈینیٹر  سید علی رضا  کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ 

 اس فرق اور وفاقی ایکٹ میں موجود دیگر خامیوں کی وجہ سے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے 73 احکامات کو ہائی کورٹس میں چیلنج کیا گیا ہے

مثال کے طور پر، سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار آفس، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور دیگر مختلف آئینی ادارے وفاقی آر ٹی آئی ایکٹ 2017 کے تحت معلومات فراہم کرنے سے گریز کرتے ہیں، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ یہ قانون آئینی اداروں پر لاگو نہیں ہوتا جو آئین کے تحت یا اس کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔

یہ ابہام دور کرنے کی ضرورت ہے، ایکٹ میں "پبلک باڈی" کی ایک زیادہ جامع اور واضح تعریف فراہم کرکے۔ یہ ذکر کرنا قابل ذکر ہے کہ انڈین رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2005 کا سیکشن 2(e)(iv) صراحتاً ان اداروں کو بھی شامل کرتا ہے جو ہندوستانی آئین کے تحت یا اس کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔

پاکستان انفارمیشن کمیشن (PIC) نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کو ایک فیصلے میں وضاحت کی کہ سیکشن 2(ix)(e) میں کہا گیا ہے کہ "وفاقی قانون کے تحت کوئی بھی عدالت، ٹریبونل، کمیشن یا بورڈ" ایکٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وضاحت کے باوجود، رجسٹرار آفس نے اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) میں رٹ پٹیشن دائر کی، اور IHC نے پٹیشن منظور کر لی اور PIC کے حکم کو مسترد کر دیا۔

سیکشن 2(ix) کو آئین کے تحت یا اس کے تحت قائم کیے گئے اداروں کو ایکٹ کے تحت عوامی اداروں کے طور پر واضح طور پر ظاہر کرنے اور صدر اور وزیر اعظم کے دفاتر اور سیکرٹریٹس کو "پبلک باڈی" کی تعریف میں شامل کرنے کے لیے ترمیم کیا جا سکتا ہے۔

سینیٹ آف پاکستان سے متعلق ایک کیس میں، PIC کے حکم پر عمل درآمد کرنے یا اسے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے بجائے، جیسا کہ ایکٹ کے تحت درکار ہے، سینیٹ سیکرٹریٹ نے کمیشن کو ایک خط بھیجا جس میں کہا گیا کہ سینیٹ کے چیئرمین کو سینیٹ سیکرٹریٹ کے کسی بھی یا تمام ریکارڈز کو خفیہ قرار دینے کا اختیار ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ سے درخواست کی گئی معلومات منظور شدہ اور خالی آسامیوں کی کل تعداد، معذور افراد کے لیے کوٹہ وغیرہ سے متعلق تھی، جسے کمیشن نے رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے تحت عوامی معلومات قرار دیا

ایک اور خامی جس کو دور کرنے کی ضرورت ہے وہ سیکشن 6 ہے — "اعلامیہ عوامی ریکارڈ" — جس میں شہریوں کو قابل رسائی ریکارڈ کی فہرست فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انڈین آر ٹی آئی ایکٹ 2005 سمیت اچھے آر ٹی آئی قوانین ایک منفی فہرست فراہم کرتے ہیں اور دیگر تمام ریکارڈز کو عوامی ریکارڈ قرار دیتے ہیں، جو شہریوں کے لیے قابل رسائی ہیں۔ ان مختلف خامیوں کی وجہ سے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سینیٹ ، کیبنٹ ڈویژن ، الیکشن کمیشن آف پاکستان ، سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے چیلنج کیا گیا ہے۔


یہ سٹوری پاکستان پریس فاونڈیشن میڈیا سیفٹی فیلو شپ   پروگرام میں مشھود الرشید کی جانب سے تیار کی گئی ہے

اشتہار

Follow us on Google News

Follow Us

اشتہار

Follow us on Google News

Follow Us