پاکستان کےآئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت ہر فرد کو معلومات حاصل کرنے کا حق حاصل ہے مگر شہریوں کو معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت عدالتوں اور دیگر اداروں سے معلومات لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی متعدد وجوہات ہیں۔
آرٹیکل ۱۹ اے اور معلومات تک رسائی
۔آئین پاکستان کے آرٹیکل 19A کے تحت عوام کے معلومات تک رسائی کے بنیادی حق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے قوانین بنائے گئے ہیں ۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ۱۹ اے میں حق معلومات کو ایک بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت، ہر شخص کو "مفاد عامہ سے متعلق معلومات تک رسائی کا حق ہے، جس میں سرکاری محکموں اور اداروں کے ریکارڈ بھی شامل ہیں۔"
یہ حق شہریوں کو حکومت کے کاموں کی نگرانی کرنے، بدعنوانی کو روکنے اور اپنے حقوق کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے۔
آئینی فریم ورک
1973 کے آئین میں صرف اظہار رائے کی آزادی کو خصوصی طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 1993 کے نواز شریف کیس میں فیصلہ دیا تھا کہ معلومات حاصل کرنے کے حق کو آئین کی "آزادی اظہار" سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ 2007 میں، آئینی عدالت نے فیصلہ کیا کہ "معلومات تک رسائی آئینی جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔ عوام کو ہر وہ چیز جاننے کا حق ہے جو عوامی کارکنان کرتے ہیں۔ 2010 میں، آرٹیکل 19-A کے تحت معلومات کے واضح حق کو شامل کرنے کے لیے آئین میں ایک اہم ترمیم کی گئی تھی، جس میں اس بات کی ضمانت دی گئی تھی کہ "ہر شہری کو عوامی اہمیت کے تمام معاملات میں معلومات تک رسائی حاصل کرنے کا حق ہوگا جو ضابطے اور معقول پابندیوں کے تابع ہو گا۔ قانون کے ذریعہ نافذ کیا گیا ہے۔"
اطلاعات کا حق قانون
اکتوبر 2002 میں صدر مشرف نے فریڈم آف انفارمیشن آرڈیننس 2002 (FOI آرڈیننس) جاری کیا، جو بڑی حد تک ایشیائی ترقیاتی بینک کی پہل پر تھا۔ اگرچہ یہ آرڈیننس چار ماہ کے اندر ختم ہو جانا چاہیے تھا، لیکن یہ آئین میں 17ویں ترمیم کے بعد مستقل ہو گیا جس نے جنرل مشرف کے اختیار کردہ تمام احکامات/آرڈیننس قوانین کو تحفظ فراہم کیا۔
جولائی 2012 میں، سینیٹ نے معلومات تک ایک جامع رسائی کے قانون کی وضاحت کے لیے ایک کمیٹی کو لازمی قرار دیا اور ایک نئے آر ٹی آئی بل کا ایک بہت مضبوط مسودہ تیار کیا گیا۔ اس نے بہت ترقی پسند پنجاب اور خیبر پختونخوا صوبوں کے آر ٹی آئی قوانین سے تحریک حاصل کی اور دیگر خصوصیات کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط انفارمیشن کمیشن قائم کیا۔ اگر اس بل کو اسی طرح اپنایا جاتا تو یہ دنیا کے سب سے مضبوط آر ٹی آئی قوانین میں سے ایک ہوتا
معلومات تک رسائی
معلومات تک رسائی کا مطلب ہے کہ کسی بھی شخص کو حکومت کے پاس موجود معلومات تک رسائی کا حق ہونا چاہیے۔ یہ حق شہریوں کو حکومت کے کاموں کے بارے میں باخبر رہنے، اپنے حقوق کو سمجھنے اور ان کا دفاع کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
معلومات تک رسائی کے کئی فوائد ہیں، بشمول:شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینا ، بدعنوانی کو روکنا شہریوں کی شرکت کو بڑھانا ، جمہوریت کو مضبوط بنانا
رجسٹرار سپریم کورٹ کے معلومات فراہم نہ کرنے پر شہری نے پاکستان انفارمیشن کمیشن میں 6مئی 2019 کو اپیل کر دی کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے اسے معلومات فراہم نہیں کی گئی سپریم کورٹ کے رجسٹرار کا موقف تھا کہ انہوں نے معلومات کی فراہمی کی درخواست اس بنیاد پر مسترد کر دی تھی کہ سپریم کورٹ پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا بلا شبہ اس میں ان اداروں کے درمیان ’’وفاقی قانون کے تحت کسی بھی عدالت، ٹربیونل، کمیشن یا بورڈ‘‘ کا ذکر ہے جن سے معلومات طلب کی جا سکتی ہیں۔
شہری کی شکایت پر پاکستان انفارمیشن کمیشن نے 16 جون 2019اور 26 جولائی 2019 کو رجسٹرار سپریم کورٹ کو نوٹسز بھیجے پاکستان انفارمیشن کمیشن نے مختار احمد کی دائر کردہ اپیل منظور کرکے 12 جولائی 2021 کو فیصلہ کر کے رجسٹرار سپریم کورٹ کو 20 دن میں شہری کو نہ صرف یہ معلومات فراہم کرنے کا حکم دیدیا بلکہ ان تمام معلومات کو جو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے سیکشن 5 کے تحت ویب سائٹ پر تمام شہریوں بشمول نابینا، کم بینائی، جسمانی طور پر معذور، بولنے اور سماعت سے محروم افراد کو بھی یہ معلومات فراہم کرنے کی ہدایات بھی کی گئیں
10 اگست 2021 کو، رجسٹرار، سپریم کورٹ آف پاکستان کے وکیل چوہدری عامر رحمن نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے 12 جولائی 2021 کو جاری کردہ حکم واپس لینے یا فیصلہ میں ترمیم کرنے کی درخواست دائر کی اور یہ بھی اپیل کی کہ اسے انصاف کے مفاد میں مختار احمد علی بمقابلہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار کے طور پر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ 17 نومبر 2021 کو پاکستان انفارمیشن کمیشن نے اس فیصلہ میں اس درخواست کو خارج کر دیا کہ یہ درخواست انفارمیشن کمیشن کو عطا ءکردہ اختیارات کے دائرہ کار سے باہر ہے
یکم دسمبر 2021 کو رجسٹرار سپریم کورٹ نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی جس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دیگر نقاط کے ساتھ ساتھ دلیل دی کہ سپریم کورٹ
پاکستان کوئی ایسا عوامی ادارہ نہیں ہے جہاں سے معلومات حاصل کی جا سکیں اور مانگی گئی معلومات عوامی ریکارڈ کے دائرہ کار میں نہیں ہیں جیسا کہ معلومات تک رسائی کے حق کے سیکشن 6 میں فراہم کیا گیا ہے ایکٹ، 2017 (ایکٹ)
سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے پہلے اس بنیاد پر مختار احمد کی درخواست مسترد کر دی کہ معلومات کی فراہمی کا قانون سپریم کورٹ پر لاگو نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کا کہنا تھا کہ آر ٹی آئی قانون میں لکھا ہے کہ ’’وفاقی قانون کے تحت کسی بھی عدالت، ٹربیونل، کمیشن یا بورڈ‘‘ پر آر ٹی آئی قانون لاگو ہوتا ہے تاہم یہ قانون اسلئے سپریم کورٹ پر لاگو نہیں ہوتا کہ سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے نہ کہ کسی وفاقی قانون کی وجہ سے تخلیق ہونے والا ادارہ۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے 3 اپریل 2023 کو فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے مختار احمد کے حق میں ہونے والے فیصلہ کو برطرف کر دیا مختار احمد کے مطابق انہیں پتہ نہیں چلا کہ فیصلہ کب ہوا جب انہیں پتہ چلا تو فیصلے کیخلاف اپیل کا وقت گزرچکا تھا لیکن اس کے لئے انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹراکورٹ اپیل دائر کی جو زیادہ ٹائم پیریڈ گزرنے کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکی اور اسے 13 جون 2023 کو خارج کر دیا گیا
پہلے سنگل بنچ پھر ڈویژن بنچ سے شہری کو ریلیف نہ مل سکا تو شہری سپریم کورٹ پہنچ گیا شہری مختار احمد نے 9 ستمبر 2023 کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جس پر سپریم کورٹ کی جانب سے اعتراضات دور کرنے کے لئے 23 ستمبر تک کی مہلت دی گئی اعتراضات دور کرنے کے بعد اب سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ کے بنچ میں 27 ستمبر کو کیس سماعت کے لیے مقرر ہو ا جس کا فیصلہ محفوط کر لیا گیا تھا اور سپریم کورٹ کی جانب سے یہ فیصلہ آج 16 اکتوبر 2023 کو سنایا جائے گا
آرٹیکل 19 اے اور معلومات تک رسائی کے فیڈرل ایکٹ دونوں پاکستانی شہریوں کو معلومات تک رسائی کا حق دیتے ہیں۔ تاہم، ان دونوں کے درمیان کچھ اہم فرق ہیں۔
آرٹیکل 19 اے پاکستان کے آئین کا ایک حصہ ہے، جبکہ معلومات تک رسائی کا فیڈرل ایکٹ ایک قانون ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آرٹیکل 19 اے کو قانون کے ذریعے منسوخ نہیں کیا جا سکتا، جبکہ معلومات تک رسائی کا فیڈرل ایکٹ قانون کے ذریعے منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
آرٹیکل 19 اے میں معلومات تک رسائی کے حق کو وسیع پیمانے پر بیان کیا گیا ہے، جبکہ معلومات تک رسائی کا فیڈرل ایکٹ معلومات تک رسائی کے حق کو مخصوص پیمانے پر بیان کرتا ہے۔ آرٹیکل 19 اے میں معلومات تک رسائی کے حق کو کسی بھی معلومات کے لیے دیا گیا ہے، جبکہ معلومات تک رسائی کا فیڈرل ایکٹ معلومات تک رسائی کے حق کو صرف حکومتی اداروں سے متعلق معلومات کے لیے دیا گیا ہے۔
آرٹیکل 19 اے میں معلومات تک رسائی کے حق کو کسی بھی شخص کے لیے دیا گیا ہے، جبکہ معلومات تک رسائی کا فیڈرل ایکٹ معلومات تک رسائی کے حق کو صرف پاکستانی شہریوں کے لیے دیا گیا ہے۔
ان فرقوں کے علاوہ، آرٹیکل 19 اے اور معلومات تک رسائی کا فیڈرل ایکٹ میں کچھ مماثلتیں بھی ہیں۔ دونوں معلومات تک رسائی کے حق کو ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ دونوں معلومات تک رسائی کے حق کو ایک ایسے حق کے طور پر تسلیم کرتے ہیں جس حق کو کسی بھی شخص تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
فیڈرل ایکٹ کے تحت سپریم کورٹ کیوں معلومات نہیں دے سکتا؟
فیڈرل ایکٹ کے تحت، سپریم کورٹ معلومات نہیں دے سکتا اگر معلومات قومی سلامتی یا خارجہ پالیسی کے لیے خطرہ ہو۔ یا اگر کسی پر مقدمہ چل رہا ہو یا چلنے والا ہو۔ یا کسی شخص کی ذاتی زندگی یا نجی معلومات میں مداخلت کرے۔
کسی غیر ملکی حکومت کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی ہو۔
سپریم کورٹ ان وجوہات کی بنیاد پر معلومات کو مسترد کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر سپریم کورٹ کے پاس کوئی ایسی معلومات ہے جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، تو وہ اس معلومات کو مسترد کر سکتی ہے۔
تاہم، سپریم کورٹ کو معلومات کو مسترد کرنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ معلومات کو مسترد کرنے کی وجہ حقیقی اور معقول ہے۔ اگر سپریم کورٹ معلومات کو مسترد کرنے کے لیے کوئی غیر منصفانہ یا بے بنیاد وجہ پیش کرتی ہے، تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے
شہری مختار احمد جو کہ سابق انفارمیشن کمشنر ہیں انہوں نے بتایا کہ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ سپریم کورٹ توفورا مجھے معلومات فراہم کر دے گی لیکن ایسا نہیں ہوا
سنٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹیو (سی پی ڈی آئی کے پراجیکٹ کوآرڈینیٹر سید علی رضا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ
اس فرق اور وفاقی ایکٹ میں موجود دیگر خامیوں کی وجہ سے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے 73 احکامات کو ہائی کورٹس میں چیلنج کیا گیا ہے
مثال کے طور پر، سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار آفس، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور دیگر مختلف آئینی ادارے وفاقی آر ٹی آئی ایکٹ 2017 کے تحت معلومات فراہم کرنے سے گریز کرتے ہیں، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ یہ قانون آئینی اداروں پر لاگو نہیں ہوتا جو آئین کے تحت یا اس کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔
یہ ابہام دور کرنے کی ضرورت ہے، ایکٹ میں "پبلک باڈی" کی ایک زیادہ جامع اور واضح تعریف فراہم کرکے۔ یہ ذکر کرنا قابل ذکر ہے کہ انڈین رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2005 کا سیکشن 2(e)(iv) صراحتاً ان اداروں کو بھی شامل کرتا ہے جو ہندوستانی آئین کے تحت یا اس کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔
پاکستان انفارمیشن کمیشن (PIC) نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کو ایک فیصلے میں وضاحت کی کہ سیکشن 2(ix)(e) میں کہا گیا ہے کہ "وفاقی قانون کے تحت کوئی بھی عدالت، ٹریبونل، کمیشن یا بورڈ" ایکٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وضاحت کے باوجود، رجسٹرار آفس نے اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) میں رٹ پٹیشن دائر کی، اور IHC نے پٹیشن منظور کر لی اور PIC کے حکم کو مسترد کر دیا۔
سیکشن 2(ix) کو آئین کے تحت یا اس کے تحت قائم کیے گئے اداروں کو ایکٹ کے تحت عوامی اداروں کے طور پر واضح طور پر ظاہر کرنے اور صدر اور وزیر اعظم کے دفاتر اور سیکرٹریٹس کو "پبلک باڈی" کی تعریف میں شامل کرنے کے لیے ترمیم کیا جا سکتا ہے۔
سینیٹ آف پاکستان سے متعلق ایک کیس میں، PIC کے حکم پر عمل درآمد کرنے یا اسے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے بجائے، جیسا کہ ایکٹ کے تحت درکار ہے، سینیٹ سیکرٹریٹ نے کمیشن کو ایک خط بھیجا جس میں کہا گیا کہ سینیٹ کے چیئرمین کو سینیٹ سیکرٹریٹ کے کسی بھی یا تمام ریکارڈز کو خفیہ قرار دینے کا اختیار ہے۔
سینیٹ سیکرٹریٹ سے درخواست کی گئی معلومات منظور شدہ اور خالی آسامیوں کی کل تعداد، معذور افراد کے لیے کوٹہ وغیرہ سے متعلق تھی، جسے کمیشن نے رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے تحت عوامی معلومات قرار دیا
ایک اور خامی جس کو دور کرنے کی ضرورت ہے وہ سیکشن 6 ہے — "اعلامیہ عوامی ریکارڈ" — جس میں شہریوں کو قابل رسائی ریکارڈ کی فہرست فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انڈین آر ٹی آئی ایکٹ 2005 سمیت اچھے آر ٹی آئی قوانین ایک منفی فہرست فراہم کرتے ہیں اور دیگر تمام ریکارڈز کو عوامی ریکارڈ قرار دیتے ہیں، جو شہریوں کے لیے قابل رسائی ہیں۔ ان مختلف خامیوں کی وجہ سے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سینیٹ ، کیبنٹ ڈویژن ، الیکشن کمیشن آف پاکستان ، سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے چیلنج کیا گیا ہے۔





