روسی ارب پتی الیکسے مورداشوف کی بیش بہا قیمت لگژری سپر یاٹ ’نورڈ‘ کو دبئی میں مرمت کے بعد آبنائے ہرمز عبور کرکے عمان پہنچا دی گئی۔بی بی سی کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران نہ تو ایران کی پاسداران انقلاب اور نہ ہی ناکہ بندی پر مامور امریکی اہلکاروں نے اسے روکا۔روسی صدر پیوٹن کے قریبی سمجھے جانے والے ارب پتی الیکسی مورداشوف باضابطہ طور پر روسی پرچم بردار کشتی کے مالک کے طور پر درج نہیں ہیں۔ تاہم، “نورڈ” کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ 2022 میں ایک ایسی کمپنی کے نام رجسٹر تھی جو ان کی اہلیہ کی ملکیت ہے۔
“نورڈ” کی مالیت 500 ملین ڈالر (370 ملین پاؤنڈ) سے زائد بتائی جاتی ہے۔ یہ جمعہ کی رات دبئی سے روانہ ہوئی اور اتوار کی صبح الموج مرینہ ، جو کہ عمان کے دارالحکومت میں واقع ایک مرینا ہے، پرپہنچ گئی۔ یہ معلومات میرین ٹریفک پلیٹ فارم کے ڈیٹا سے حاصل ہوئی ہیں۔ٹریکر پر دکھایا گیا راستہ ان جہازوں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے جو ایران کی رضامندی سے اس علاقے سے گزرتے ہیں۔تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا “نورڈ” کو اس راستے سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت حاصل تھی یا نہیں۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی ارب پتی کی اس کشتی نے بین الاقوامی بحری قوانین کے تحت ایک منظور شدہ راستے سے آبنائے ہرمز عبور کی۔ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ دوست ملک کی تفریحی سفر کے لیے استعمال ہونے والی اس یاٹ کو آبنائے ہرمز سے بغیر کسی روک ٹوک کے گزرنے دیا گیا۔دوسری جانب امریکی حکام نے بتایا کہ یہ یاٹ نہ تو ایرانی بندرگاہوں پر گئی اور نہ ہی اس کا ایران سے کوئی تعلق تھا۔ اس لیے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باجود اسے جانے دیا گیا۔اس وقت روسی ارب پتی کی یہ قیمتی کشتی عمان کے ساحل پر موجود ہے۔