آئی ایم ایف نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں 5,500 روپے اضافے کی تجویز دے دی ، جس کے بعد رقم بڑھ کر 20,000 روپے ہوجائے گی۔تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) اور پاکستانی حکام کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران غریب اور مستحق خاندانوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت سامنے آئی۔آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی گزارنے کے اخراجات کے پیشِ نظر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت دی جانے والی مالی امداد کی رقم میں اضافہ کرے۔
عالمی مالیاتی ادارے نے تجویز دی ہے کہ غریب خاندانوں کو معاشی دباؤ سے بچانے کے لیے بی آئی ایس پی کے تحت ملنے والی موجودہ سہ ماہی قسط میں 5,500 روپے کا اضافہ کیا جائے۔اس وقت مستحق خواتین کو سہ ماہی بنیادوں پر 14,500 روپے مل رہے ہیں، جسے بڑھا کر 20,000 روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بی آئی ایس پی کی رقم میں اضافے کا یہ معاملہ ابھی حتمی منظوری کے مراحل میں ہے اور آئی ایم ایف مشن کے ساتھ اس پر تفصیلی بات چیت جاری ہے۔اجلاسوں میں سوشل پروٹیکشن (سماجی تحفظ) کے بجٹ میں اضافے کے ساتھ ساتھ دیگر اہم معاشی امور پر بھی غور کیا گیا۔
جن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ ٹیکس نیٹ بڑھانے پر مشاورت شامل ہیں۔آئی ایم ایف پاکستان پر تمام سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کے لیے بھی مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے تاہم ملک کے مجموعی مالیاتی ڈھانچے اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیاوزارتِ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بی آئی ایس پی کے وظیفے کی اس نئی مجوزہ رقم (20,000 روپے) کو اسی شکل میں منظور کیا جائے گا، اس میں کچھ ردوبدل ہوگا یا اسے میکرو اکنامک فریم ورک کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے گا تاہم اس کا حتمی فیصلہ جاری مذاکرات کے آخری سیشنز میں طے پائے گا۔