یورپی لگژری کار ساز کمپنی فراری (Ferrari) نے اپنی پہلی الیکٹرک لگژری کار لوس (Luce) متعارف کرا دی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔فراری کی نئی 5 نشستوں والی الیکٹرک کار کے ڈیزائن کو بعض صارفین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ کئی افراد نے اسے کمپنی کے روایتی انداز سے انحراف قرار دیا۔ایک صارف نے لکھا کہ فراری نے بھی جگوار کی طرح اپنی برانڈ شناخت ختم کر دی، جبکہ دوسرے تبصرے میں یورپی لگژری کار ساز اداروں کی نئی حکمت عملی پر سوال اٹھایا گیا۔دوسری جانب کئی صارفین نے گاڑی کے ڈیزائن کو انقلابی قرار دیتے ہوئے اسے فراری کے لیے ایک بڑا قدم کہا۔
فراری کے چیف ڈیزائن آفیسر فلاویو مانزونی نے کہا کہ نئی سوچ اور جدت کے عمل میں تنقید ایک فطری امر ہے۔ ان کے مطابق الیکٹرک فراری کا تصور بظاہر متنازع ہوسکتا ہے، تاہم آنے والے مہینوں میں لوگ اس ڈیزائن کو زیادہ پسند کریں گے۔کمپنی نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی الیکٹرک گاڑی کے ساتھ ساتھ پیٹرول اور ہائبرڈ ماڈلز بھی فروخت کرتی رہے گی۔رپورٹس کے مطابق عالمی آٹو انڈسٹری میں الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی کو حالیہ برسوں میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ Ford اور Volkswagen جیسی کمپنیاں کمزور طلب اور پالیسی تبدیلیوں کے باعث دوبارہ پیٹرول گاڑیوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔
اسی طرح Lamborghini نے مکمل الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبے مؤخر کرتے ہوئے ہائبرڈ ماڈلز کی طرف رجوع کیا ہے، جبکہ Porsche نے بھی کمزور طلب کے باعث اپنی ای وی حکمت عملی محدود کر دی ہے۔چینی کار ساز کمپنیاں کم لاگت اور تیز رفتار پیداوار کے باعث مغربی کمپنیوں کے لیے سخت مقابلہ بن چکی ہیں۔ دوسری جانب مہنگائی اور عالمی معاشی دباؤ کے باعث لگژری مصنوعات کی طلب میں کمی نے فراری سمیت کئی بڑی کمپنیوں کے شیئرز کو متاثر کیا ہے۔