حکومت نے وفاقی بجٹ میں صدر کے باغ کیلئے ساڑھے 10 کروڑ، وزیراعظم کے باغ کیلئے ساڑھے 4 کروڑ روپے مختص کردیئے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ایوانِ صدر اور وزیر اعظم ہاؤس کے باغات کی دیکھ بھال، پودوں، گھاس اور گرینری کو برقرار رکھنے کے لیے مجموعی
طور پر 15 کروڑ روپے کی بھاری رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد کے سب سے پرتعیش اور وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے صدرِ پاکستان کے سرکاری گھر یعنی ایوانِ صدر کے باغات کے لیے بھاری فنڈز رکھے گئے ہیں، ایوانِ صدر کے باغات، لان اور گرین بیلٹس کی آرائش، نئے پودوں کی خریداری اور مالیوں کے اخراجات کے لیے 10 کروڑ 50 لاکھ روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔
ایوان صدر میں صدر زرداری بیٹھتے ہیں! صدر کے باغ کیلیے ساڑھے دس کروڑ اور وزیر اعظم کے باغ کیلیے ساڑھے چار کروڑ رکھے گئے https://t.co/uUdS6Qxfyx
— Zahid Gishkori (@ZahidGishkori) June 13, 2026
بتایا گیا ہے کہ صرف صدر ہی نہیں بلکہ وزیر اعظم شہباز شریف کی سرکاری رہائش گاہ کے باغات کو ہرا بھرا رکھنے کے لیے بھی قومی خزانے کا منہ کھول دیا گیا ہے، وزیر اعظم ہاؤس کے لان اور باغات کے لیے بجٹ میں 4 کروڑ 50 لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔حکومتی ناقدین کا کہنا ہے کہ معاشی بحران کے اس دور میں جب غریب کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہو چکی ہے، صدر کے لان کی خوبصورتی پر کروڑوں روپے اڑانا سمجھ سے باہر ہے، ایک طرف وزیر اعظم خود چار بھائیوں اور ایک روٹی کی مثالیں دے کر سادگی اور معاشی انصاف کی باتیں کر رہے ہیں، تو دوسری طرف ان کے اپنے محل کے باغات کے لیے کروڑوں روپے کے سرکاری فنڈز کی منظوری دی جا رہی ہے۔