وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور حکومت کی جانب سے کیے گئے معاشی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں جب کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی کی ہے۔کراچی میں پاکستان بینکنگ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے نئے بجٹ میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔بجٹ میں ایڈوانس ٹیکس، سبسڈی اور سپر ٹیکس میں کمی کی گئی جب کہ 50 کروڑ روپے تک کے کاروبار کرنے والے اداروں کے لیے سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
زرعی مشینری پر ٹیکس کی شرح صفر کر دی گئی ہے اور کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی کے لیے شرائط بھی نرم کی گئی ہیں۔ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا گیا ہے اور یہ خوش آئند امر ہے کہ ریٹیلرز بھی ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے کے لیے آمادہ ہیں۔انکم ٹیکس افسران کے اختیارات کو محدود کیا گیا ہے تاکہ کاروباری برادری کو سہولت مل سکے، جبکہ ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے بھی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ 25 کروڑ آبادی والے ملک میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ ٹیکس نظام کو بھی آسان بنانا ناگزیر ہے۔حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی کی ہے جب کہ ملکی جی ڈی پی کی شرح میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پالیسی ریٹ کے حوالے سے آگاہ کرنا گورنر اسٹیٹ بینک کا اختیار ہے،روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں گزشتہ تین برس کے دوران 30 کروڑ ڈالر تک اضافہ ہوا ہے جو بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد کا مظہر ہے۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کے فروغ کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جا رہی ہے۔ حکومت، گورنر اسٹیٹ بینک، بینکاری شعبے کے نمائندے اور متعلقہ ادارے مل کر ایس ایم ایز کو مالی سہولیات اور آسان قرضوں کی فراہمی یقینی بنائیں گے تاکہ بڑے کاروباروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروباری شعبے کو بھی قومی معیشت میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع مل سکے۔