امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کی گئی ایک نئی طنزیہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے، جس میں وہ خود کو “ڈاکٹر ٹرمپ” کے روپ میں پیش کرتے ہیں۔ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ناقدین کو ایک فرضی بیماری “ٹرمپ ڈیرینجمنٹ سنڈروم (ٹی ڈی ایس)” میں مبتلا قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس کا علاج کر رہے ہیں۔
ویڈیو میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے مختلف معروف شخصیات کو بھی دکھایا گیا ہے، جو مبینہ طور پر اس فرضی علاج سے صحت یاب ہونے کا اظہار کرتی نظر آتی ہیں۔ویڈیو کے دوران “ڈاکٹر ٹرمپ” مزاحیہ اور طنزیہ انداز میں مختلف “نسخے” بھی تجویز کرتے ہیں، جن میں فیک نیوز سے دور رہنے، دعا کرنے اور لائٹ سافٹ ڈرنک پینے جیسی باتیں شامل ہیں۔ یہ تمام مناظر حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ سیاسی طنز اور تفریح کے مقصد سے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیے گئے ہیں۔
یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جہاں ٹرمپ کے حامیوں نے اسے مزاحیہ اور سیاسی طنز قرار دیا، جبکہ ناقدین نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے حقیقی شخصیات کی تصاویر اور ویڈیوز استعمال کرنے پر اعتراض اٹھایا اور اسے گمراہ کن مواد قرار دیا۔واضح رہے کہ “ٹرمپ ڈیرینجمنٹ سنڈروم” کوئی تسلیم شدہ طبی بیماری نہیں، بلکہ یہ ایک سیاسی اصطلاح ہے، جسے ٹرمپ اور ان کے حامی ان افراد کے لیے استعمال کرتے ہیں جو ان پر مسلسل سخت تنقید کرتے ہیں۔