روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس اپنے شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا اور یوکرین کی جانب سے روسی علاقوں پر حملوں کا جواب مزید سخت کارروائی اور سرحدی حفاظتی زون کے قیام کی صورت میں دیا جائے گا۔
کریملن کے مطابق صدر پوتن نے اعلی فوجی کمانڈروں اور وزارت دفاع کے حکام کے ہمراہ ایک فوجی کمانڈ پوسٹ کا دورہ کیا، جہاں انہیں ڈونباس میں روسی فوج کی پیش قدمی، خصوصا اہم شہر کوستیان تینیو پر قبضے سے متعلق بریفنگ دی گئی، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ روس اس جنگ میں کامیابی حاصل کرے گا، تاہم فوجی قیادت کو کارروائی کے دوران روسی فوجیوں کی جانوں کے تحفظ اور جنگی اہداف کے حصول کو یقینی بنانا ہوگا ۔
صدر پوتن نے الزام عائد کیا کہ کیف حکومت میدان جنگ میں اپنی مبینہ کامیابیوں کا تاثر برقرار رکھنے کے لیے تخریبی اور دہشتگردانہ کارروائیوں کا سہارا لے سکتی ہے ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کے بیانات اور اقدامات نہ صرف خود اس کے لیے بلکہ اس کے مغربی حامیوں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں روسی صدر نے یورپی ممالک پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، اگر مغربی ممالک یوکرین کی جانب سے روسی شہریوں، شہری تنصیبات، ٹرانسپورٹ یا تعلیمی اداروں پر ڈرون حملوں کی حمایت کرتے ہیں تو یہ انتہائی خطرناک رجحان ہوگا۔
پوتن نے روسی فوج کو ہدایت دی کہ وہ یوکرین کے فوجی صنعتی ڈھانچے اور جنگی صلاحیت کو سہارا دینے والی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملے جاری رکھے، روسی شہریوں پر جتنے زیادہ حملے کیے جائیں گے، روس اتنا ہی وسیع حفاظتی زون قائم کرنے پر مجبور ہوگا. انہوں نے یوکرین کے مغربی اتحادیوں کو بھی بالواسطہ انتباہ دیتے ہوئے فوج کو ہدایت کی کہ وہ جنگ میں ان کی براہ راست شمولیت کا تفصیلی جائزہ لے، کیونکہ اس بنیاد پر مستقبل میں اہم فیصلے کیے جا سکتے ہیں دریں اثنا ماسکو نے دعوی کیا ہے کہ روس نے یوکرین کی جانب سے فائر کیے گئے 16 ڈرونز کو مار گرایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے ٹیلی گرام پر کہا کہ روسی فضائی دفاع نے معیاری آفیشل فارمولے کا استعمال کرتے ہوئے ڈرونز کو پسپا کر دیا اور انہیں ماسکو کی طرف بڑنے پر مار گرایا تاہم روسی حکام نے دارالحکومت میں ممکنہ نقصانات، ہلاکتوں کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں. سرگئی سوبیانین نے بتایا کہ ہنگامی خدمات کے ماہرین اس جگہ پر کام کر رہے تھے جہاں ملبہ گرا تھا تاہم ممکنہ نقصان، ہلاکتوں، ملبے کے اثرات کے مقامات یا ہوائی اڈوں اور نقل و حمل میں رکاوٹوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں رپورٹ کردہ ڈرون سرگرمی اس وقت سامنے آئی جب روس کو ماسکو کے اندر اور اس کے آس پاس اور خطے کے اندر ان خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔